.

ترکی حافظ الاسد کا ہم شکل دیکھ کر شامی مہاجر خاتون کا رنگ فق ہو گیا

'فیس بک' پر تصویر کی مضحکہ خیز تبصروں کے ساتھ اشاعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی میں شامی مہاجرین کے ایک کیمپ میں خاتون پناہ گزین کی نظر ایک شخص پر پڑتے ہی اسکے چہرے کی ہوایاں اڑ گئیں۔ اس نے ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ اپنے بھائی کا ہاتھ تھام کر ایک شخص کی جانب اشارہ کیا کہ جو ایک کیفے میں دیگر چند ادھیڑ عمر دوستوں کے ہمراہ بیٹھا تھا۔

خاتون کے بھائی کی نظر جیسے ہی اس شخص پر پڑی تو چلا اٹھا ۔۔۔ "اللہ اکبر ... میرا بھی دل ابھی بند ہو چلا تھا، لیکن تم ڈرو نہیں .... وہ شخص صرف حافظ الاسد کا ہم شکل ہے"۔

حافظ الاسد، شام کے موجودہ صدر بشار الاسد کے والد تھے۔ عوام دشمنی کے تمام رموز و اسرار انہوں نے اپنے ہونہار میڈیکل ڈاکٹر بیٹے بشار الاسد کی گٹھی میں گھول کر انہیں پلائے تھے۔

شامی مہاجر خاتون اور اس کے بھائی کو اگر حافظ الاسد کے دور حکومت کی خونی تاریخ یاد نہ ہوتی تو شاید ان کا ردعمل اتنا زیادہ دہشت ناک نہ ہوتا۔ 'بیٹا باپ سے بھی ظالم' کے مصداق بشار الاسد کی حالیہ خونریزیاں بھی مہاجرین کے دل میں تازہ ہیں، اس لئے منوں مٹی تلے مدفون سفاک حکمرانوں کے ہم شکل چہرے دیکھ کرعوام کے چہروں کی ہوایاں اڑ جاتی ہیں۔

اسی لئے انیس ماہ قبل بشار الاسد کی آمریت کے خلاف شامی عوام کی انتفاضہ کا آغاز ان تمام نقش ہائے کہن کو مٹا کر کیا گیا کہ جس سے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کی کوئی بھی یاد وابستہ تھی۔

حافظ الاسد کا ہم شکل بوڑھا دیکھنے والوں کی رائے میں یہ شخصیت شامیوں کے لئے ایک تحفے سے کم نہیں کیونکہ اسے دیکھ کر وہ اس حافظ الاسد سے زبانی جمع خرچ اور نعروں کے ذریعے انتقام لے سکتے ہیں کہ جس کے شان میں وہ 'الی الابد یا حافظ الاسد' کے نعرہ ہائے مستانہ لگاتے رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ روس کے ایک گاؤں میں اب بھی وہاں کے باسی اس بات کا یقین کرتے ہیں کہ اسٹالن مرنے کے بعد بھی زندہ ہے ۔۔۔ ایسے ہی عراقی اپنے سابق مصلوب رہ نما کے مضحکہ خیز قصے کہانیاں یاد کر کے کانپ جاتے ہیں کہ کہیں وہ دوبارہ زندہ ہو کر ان سے انتقام لینے واپس نہ لوٹ آئے۔