.

رومنی ۔ اوباما مناظرا شام میں فوجی مداخلت سے انکار

'خارجہ پالیسی میں اختلاف صرف لہجے کی حد تک تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں صدارتی الیکشن سے تقریباً دو ہفتے قبل انتخاب کے مرکزی امیدواروں براک اوباما اور مِٹ رومنی کے درمیان تیسرے مناظرے کا محور واشنگٹن کی خارجہ پالیسی تھی لیکن رومنی اور اوباما کئی مرتبہ مناظرے کے دوران داخلی سیاست، ملکی معیشت، ٹیکس اور ملازمتوں جیسے موضوعات کا ذکر چھیٹر لیتے تاہم مناظرے کے ماڈریٹر باب شیفر انہیں مہارت کے ساتھ دوبارہ 'ٹریک' پر لے آتے۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار مِٹ رومنی کے درمیان تیسرا مناظرہ فلوریڈا کے مقام بوکا ریٹن میں واقع لین یونیورسٹی میں ہوا۔ پیر کی شام تک دونوں امیدوار رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 46 پوائنٹس کے ساتھ برابر تھے۔ لین یونیورسٹی میں ہونے والے مناظرے میں دونوں امیدواروں کو امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان اور افغانستان

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے تناظر میں پاک امریکا تعلقات پر بھی اوباما اور رومنی نے بات کی۔ اوباما نے القاعدہ کی لیڈر شپ کو زیر کرنے کے معاملے کو ایک دو مرتبہ اٹھایا۔ اوباما نے افغانستان میں جنگی مشن کے اختتام پر سماجی اور تعمیر نو کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

رومنی کے خیال میں افغانستان کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ایک ناکام پاکستانی ریاست خطے کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری پر بھی ماڈریٹر نے بات کی۔ رومنی کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کو چھوڑا نہیں جا سکتا اور بین الاقوامی حکمت عملی کی مناسبت سے پاکستان ایک امریکی اتحادی ہے۔ رومنی نے ڈرون حملوں کی بھی حمایت کی۔ اوباما نے صومالیہ، یمن اور پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف پارٹنر شپ قائم کرنے کو اہم خیال کیا۔

مشرق وسطیٰ کا سوال؟

امریکی صدارتی الیکشن کے آخری مباحثے کے ابتدائی سوال مشرق وسطیٰ اور لیبیا کے تناظر میں تھے۔ رومنی نے عرب بہاریہ اور افریقی ملکوں میں پیدا شدہ صورت حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اوباما پالیسیوں پر تنقید کی۔ اوباما نے اپنی خارجہ پالیسیوں کا بھرپور انداز میں دفاع کرنے کی کوشش کی۔

رومنی نے واضح کیا کہ وہ اگر صدر منتخب ہو گئے تو انتہا پسندی کی بیخ کنی کے لیے مسلم ورلڈ کی مدد کرنا اہم ہو گا۔ اوباما، مباحثے کے اوائل میں اس کا اظہار کرتے رہے کہ رومنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے عدم تسلسل کا شکار ہیں۔ رومنی کے خیال میں عالمی سطح پر امریکا کو فوجی نہیں بلکہ حکومتوں کو متحرک کرنے کے لیے لیڈر شپ کے رول کی ضرورت ہے۔ اوباما نے واضح کیا کہ امریکا کئی معاملات میں اسی لیڈرشپ کردار کو ادا کر رہا ہے۔

رومنی نے گفتگو کے دوران کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا، عرب دنیا میں کمزور اقتصادیات اور خواتین کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ شام کی صورت حال پر بھی رومنی نے امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کی۔ جواباً اوباما کا کہنا تھا کہ شام پر ان کی خارجہ پالیسی تسلسل سے عبارت ہونے کے علاوہ لیڈر شپ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ رومنی نے اوباما کی جانب سے مصر صدر محمد مُرسی کو مدعو کرنے کے عمل کو تحسین سے دیکھا۔

رومنی نے خارجہ پالیسی پر گفتگو کے دوران امریکی اقتصادیات کا بھی اشارہ دیا اور مائیک مولن کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کی سکیورٹی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ اس کے قومی خزانہ پر نیشنل قرضوں کا انتہائی بڑا بوجھ ہے۔ اسی تناظر میں رومنی نے کہا کہ ملک کے اندر امریکی معیشت کو توانا کرنے کے بعد ہی غیر ملکوں میں امریکی اقدار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اوباما نے کھلے انداز میں کہا کہ رومنی کا خارجہ پالیسی کے حوالے تمام انتخاب نامناسب ہے۔ اوباما کے بہ قول موجودہ اقتصادی مسائل انہیں ورثے میں ملے اور وہ کافی حد تک ان پر قابو پانے میں کامیاب رہے ہیں۔

ایران کا جوہری پروگرام

مناظرے کے دوران امریکی معیشت کے تناظر میں دونوں امیدواروں نے فوجی بجٹ میں کمی پر بھی بات کی۔ مباحثے کے دوران ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔ رومنی نے کہا کہ اوباما کے صدر بننے کے بعد اب ایران جوہری ہتھیار سازی کے قریب ہے۔

اوباما نے واضح کیا کہ جب تک وہ امریکا کے صدر ہیں ایران کو کسی طور پر بھی جوہری ہتھیار سازی کا موقع نہیں مل سکے گا اور تہران حکومت کو متحدہ دنیا کا سامنا ہے۔ رومنی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے اثرات سامنے آئے ہیں اور فوجی ایکشن آخری حربہ تو ہو سکتا ہے پہلا نہیں۔

بڑھتا ہوا چینی چیلنج

ماڈریٹر باب شیفر نے امریکا اور چین کے اقتصادی روابط کو مستقبل کی امریکی خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیا۔ اوباما اور رومنی نے چین اور امریکا کے درمیاتی تجارتی اور اقتصادی کشمکش پر بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اوباما نے چین کو کئی عالمی مسائل میں امریکا کا مخالف قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں امریکا کا پارٹنر بن سکتا ہے۔ رومنی نے چینی کرنسی کی قدر کے حوالے سے چین کے کردار کو جوڑ توڑ سے منسلک کیا۔

رومنی کے مطابق امریکا کو اپنے اتحادیوں کی قریبی رفاقت کی ضرورت ہے۔ اوباما کے نزدیک عالمی سطح پر امریکا ایک ناگزیر قوم ہے اور اسے کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کے دور میں چین کے ساتھ تجارتی روابط تاریخی طور پر امریکا کے حق میں بہتر ہوئے ہیں اور چین کی جانب سے کسی بھی قسم کی استحصالی اقتصادی پالیسی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسرے مباحثے کے مقابلے میں تیسرے اور آخری مناظرے میں ابتداء ہی سے رومنی کا انداز قدرے جارحانہ تھا۔ مناظرے کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے رومنی اور اوباما نے ایک دوسرے پر چُبھتے ہوئے فقرے کسنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔