.

شام میں جیش الحر کے جنگجوؤں کے لئے پہلی مرتبہ تنخواہوں کا اجرا

تنخواہوں کے ماخذ کو صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے شہر حلب میں جیش الحُر کی کمان میں سرکاری فوج کے خلاف نبرد آزما جنگجوؤں کو پہلی مرتبہ ماہانہ بنیادوں پر تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ تاہم جیش الحر کی مقامی کمیٹیوں کی جانب سے اپنے ذرائع آمدن کو صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیش الحر کی جانب سے حال ہی میں حلب میں محاذ جنگ میں شریک صف اول کے جنگجوؤں کو فی کس 150 ڈالرز دیے گئے ہیں۔ تنخواہوں کے اجراء سے قبل جنگجوؤں کی ایک فہرست مرتب کی گئی تھی۔ مشاہرے اسی فہرست کی روشنی میں صرف رجسٹرڈ کارکنوں کو دیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق باغیوں کو رقوم کی ادائیگی کا سلسلہ نہایت راز داری سے ہو رہا ہے لیکن کسی بھی شخص کو اس کی تنخواہ ادا کرنے سے قبل یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ جنگجو جیش الحر کے زیر انتظام کسی محاذ پر صف اول میں رہتے ہوئے لڑ رہا ہے یا نہیں۔



گو کہ ڈیڑھ سو ڈالرز ماہانہ کی تنخواہ کسی شامی شہری کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، تاہم اس سے باغیوں کو اپنی کچھ ضروریات پوری کرنے میں ضرور مدد ملے گی اور وہ جنگ کے میں شمولیت کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کا معاشی سہارا بھی بنے رہیں گے۔



حلب میں جیش الحر کی کمان میں لڑنے والے ایک جنگجو محمد الناصر نے العربیہ کو بتایا کہ "ہم گزشتہ چھ ماہ سے اسی شہر میں حکومتی فوج کےخلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمیں پہلی مرتبہ فی کس ڈیڑھ سو ڈالرز تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک معمولی سہارا ہے۔ جیش الحر اور باغیوں سے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی کہ انہیں یہ رقوم کہاں سے آ رہی ہیں تو انہوں نے اس سلسلے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔

العربیہ کو جیش الحُر کے ایک ذریعے نے فقط اتنا بتایا کہ انہیں بیرون ملک اپوزیشن کی جانب سے رقوم بھیجی جا رہی ہیں۔ تاہم ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کس ملک میں موجود شامی اپوزیشن ان کی مالی معاونت کر رہی ہے؟۔