.

حج 2012ء لاکھوں فرزندانِ توحید کی منیٰ میں رات گذاری

حجاج جمعرات کو علی الصباح میدانِ عرفات جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مکہ معظمہ میں بدھ کو مناسک حج کا آغاز ہو گیا ہے اور لاکھوں فرزندان توحید رات وادی منیٰ میں کھلے آسمان تلے گزار رہے ہیں۔ وہ نصف شب کے بعد میدان عرفات کی جانب روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ حج کا رکن اعظم ''وقوف عرفات'' ادا کریں گے۔

حجاج کرام کی زبانوں سے ایک ہی کلمہ''لبیک اللہم لبیک لا شریک لک لبیک'' جاری ہے۔ حجاج کی کثیر تعداد مِنیٰ میں عبادت گذاری کے بعد پیدل ہی میدان عرفات پہنچے گی۔ منیٰ سے میدان عرفات کا فاصلہ دس کلومیٹر ہے اور ایک بڑی تعداد بسوں کے ذریعے بھی وہاں جائے گی۔

سعودی حکومت نے حج کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور دس مربع کلومیٹر کے علاقے میں واقع مکہ معظمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ انتظامی عملے کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ''وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عازمین حج کو کسی رکاوٹ کے بغیر مکہ معظمہ سے گاڑیوں کے ذریعے منیٰ میں منتقل کیا گیا ہے۔ لاکھوں عازمین رات منیٰ میں گذاریں گے اور وہ جمعرات کو علی الصباح میدان عرفات کی جانب روانہ ہو جائیں گے''۔

سعودی حکام کے مطابق بیرون ممالک سے قریباً اٹھارہ لاکھ فرزندان توحید حج کے لیے حجاز مقدس پہنچے ہیں۔ ان کے علاوہ سعودی شہری اور سعودی مملکت میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن بھی لاکھوں کی تعداد میں فریضٔہ حج ادا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے سال 2011ء میں مسجد الحرام کی تعمیر و توسیع کے بڑے منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔ اس کی تکمیل کے بعد مسجد الحرام میں بیک وقت بیس لاکھ مسلمان نماز ادا کر سکیں گے۔ اس سال سعودی حکومت نے منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں حجاج کرام کو مناسک حج کی ادائی کے وقت زیادہ بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے منصوبوں پر ایک ارب دس کروڑ ریال صرف کیے ہیں۔

گذشتہ سال حج کے موقع پر پہلی مرتبہ حجاج کرام نے چین کی تعمیر کردہ ریلوے لائن پر چلائی گئی مکہ میٹرو پر سفر کیا تھا۔ وہ پہلے اس کے ذریعے وادی منیٰ پہنچے اور پھر میدان عرفات آئے تھے۔ اس ٹرین کے ذریعے ایک گھنٹے میں بہتر ہزار عازمین کو میدان عرفات اور منیٰ پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا تاکہ مناسک حج کی ادائی کے دوران ازدحام سے بچا جا سکے جس کے نتیجے میں گذشتہ برسوں کے دوران افسوسناک واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

دو رویہ ریلوے ٹریک کے ذریعے مکہ شہر سے منیٰ ، مزدلفہ اور میدان عرفات کو ملایا گیا ہے۔ البتہ گذشتہ سال سال سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام نے ہی وادی منیٰ اور میدان عرفات تک پہنچنے کے لیے میٹرو ٹرین سے استفادہ کیا تھا۔