.

سوڈان اسرائیلی طیاروں کا خرطوم کے نزدیک اسلحہ فیکٹری پر حملہ

دھماکے سے فیکٹری تباہ، علاقے میں خوف وہراس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوڈان نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ اس کے چار جنگی طیاروں نے دارالحکومت خرطوم کے نواح میں واقع ایک اسلحہ فیکٹری پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب بمباری کی ہے۔

سوڈان کے وزیر ثقافت اور اطلاعات احمد بلال عثمان نے بدھ کو خرطوم میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''ہمارے خیال میں اسرائیل نے یہ بمباری کی ہے''۔

سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی اور مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق ''ایک زور دار دھماکے کے بعد گولہ بارود اڑ کر دور جا گرا جس سے خوف وہراس پھیل گیا''۔ سوڈانی حکام کا کہنا ہے کہ خرطوم کے جنوب میں واقع یرموک فوجی صنعتی کمپلیکس میں دھماکے میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ البتہ بعض افراد دھماکوں کے بعد دھویں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان حکام نے اس دھماکے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد سیاہ دھواں فضا میں ہر طرف پھیل گیا۔ اس سے متعدد قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، ان کی چھتیں اڑ گئی ہیں اور ان کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

سوڈانی وزیر دفاع جنرل عبدالرحیم محمد حسین اور دوسرے سنئیر حکام نے بدھ کو دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا ہے اور انھوں نے اس واقعہ پر غور کے لیے اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے کمپلیکس کے آس پاس کے علاقے کو سیل کر دیا اور اس طرف جانے والے ٹریفک کو بھی بند کر دیا۔

خرطوم کے گورنر عبدالرحیم خضر نے سرکاری خبر رساں ایجسنی 'سونا' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دھماکے میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے، اس کے نتیجےمیں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے''۔

یاد رہے کہ سن 2009ء میں سوڈان کے شمال مشرقی علاقے میں گاڑیوں کے ایک قافلے پر فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں متعدد افراد مارے گئے تھے۔ یہ یقین کیا جاتا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس قافلے پر حملہ کیا تھا اور اس میں شامل لوگ مبینہ طور غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔ اسرائیل نے آج تک اس حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ سوڈانی حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ اس قافلے کے ذریعے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے اسلحہ بھیجا جا رہا تھا۔

اس واقعہ سے ایک عشرہ قبل 1998ء میں امریکا نے خرطوم میں واقع ایک دوا ساز فیکٹری پر کروز میزائل فائر کیے تھے جس سے یہ فیکٹری تباہ ہو گئی تھی۔ امریکا نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ اس فیکٹری کا القاعدہ کے لیڈر (اب مقتول) اسامہ بن لادن سے تعلق تھا۔ سوڈان کو القاعدہ کے جنگجوؤں کا ایک بڑا گڑھ اور اسلحہ کے سوداگروں اور انسانی اسمگلروں کے لیے ایک اہم گذرگاہ سمجھا جاتا ہے۔