.

شام عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی پر متفق الاخضر الابراہیمی

"فوجی کمان جنگی کارروائیاں روکنے کا جائزہ لے رہی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کا کہنا ہے کہ شام نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور اس سلسلہ میں شامی حکومت کی جانب سے آج اعلان متوقع ہے۔

الاخضر الابراہیمی نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے ہیڈکوارٹرز میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میرے دمشق کے دورے کے بعد شامی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے''۔

تاہم شامی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی سے متعلق جمعرات کو کوئی فیصلہ کرے گی۔ شامی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''فوجی کمان عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں کے دوران جنگی کارروائیاں روکنے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس ضمن میں حتمی فیصلہ کل کیا جائے گا''۔

دوسرے عرب ممالک کی طرح شام میں بھی عید کی تعطیلات کا آغاز جمعرات سے ہو رہا ہے۔ الاخضر الابراہیمی نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ جنگ بندی کب سے عمل درآمد کیا جائے گا اور کب تک سیز فائر رہے گا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی ایلچی شام میں جنگ بندی کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور وہ بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی ان کاوشوں کے بارے میں ویڈیو لنک کے ذریعے بریف کریں گے۔

حکومت مخالف شامی قومی کونسل کے سربراہ عبدالباسط سیدا نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ باغی جنگجو عید کے دنوں میں جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اگر ان پر حملہ کیا گیا تو وہ بھی اس کا جواب دیں گے۔ انھوں نے اس حوالے سے شامی حکومت کے ارادوں کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا اور ان کا کہنا تھا کہ الاخضر الابراہیمی کا منصوبہ بہت زیادہ مبہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی ایلچی نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے کوئی میکانزم وضع نہیں کیا اور وہ ہر دو فریقوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے طور پر جنگ بندی کر سکتے ہیں۔ الاخضر الابراہیمی نے گذشتہ اتوار کو دمشق میں شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کے بعد آیندہ جمعہ کو عید الاضحیٰ کے آغاز کے موقع پر شامی تنازعے کے تمام فریقوں سے یک طرفہ جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

شام نے پہلے ان کی جانب سے پیش کردہ یک طرفہ جنگ بندی کی تجویز پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ باغیوں کی جانب سے یہ ضمانت دی جائے کہ وہ سرکاری فورسز کے جنگ بندی کے لیے کسی بھی اقدام کی صورت میں ردعمل میں وہی اقدام کریں گے۔ تاہم شامی فوج کے خلاف بر سر پیکار گروپوں کی جانب سے ابھی تک اس ضمن میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔