.

متمول عربوں کو دوائے دل فروخت کرنے والی لبنانی دکان بند

نمایاں 'صارفین' میں قذافی کا بیٹا بھی شامل تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی عدالت نے عرب دنیا میں جسم فروشی کے سب سے بڑے اڈے کے مالک ایلی نحاس اور دیگر کو ان کی غیر موجودگی میں آٹھ برس قید اور 50 ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ایلی نحاس دنیا بھر کے دولت مندوں کے لئے عیش و عشرت کا سامان بہم پہنچاتا تھا۔ مشہورعرب شخصیات اور سرکردہ افراد بشمول مقتول کرنل معمر القذافی کا ایک بیٹا بھی ایلی نحاس کے متعبر صارفین میں شامل تھا۔

ایلی نحاس کی نگرانی میں چلنے والے جسم فروشی کے اڈے کا مرکزی دفتر جنوبی فرانس کے سیاحتی شہر کان کی مشہور ساحلی سیرگاہ کوٹ ڈا ژؤر میں واقع تھا۔ اس کا افتتاح سن 2004ء میں ہوا لیکن بعد میں اس کی شاخیں بیروت، کرکاس، نیویارک اور پیرس میں کھولی گئیں۔ مشہور فیشن ڈیزائنرز، ملکہ حسن، فنکارائیں اور کھلاڑی ان اڈوں سے اپنے لئے دوائے دل حاصل کرنے کشاں کشاں چلے آتے۔

نحاس اینڈ کمپنی کے خلاف عدالتی فیصلہ مارسے کے اٹارنی جنرل ڈیمیئن مارٹینیلی کی دائر درخواست پر دیا گیا جس میں انہوں نے نحاس کو جسم فروشی کی دنیا کی کاروباری شخصیت قرار دیا تھا۔ فیصلے کی ضمنیوں کے طائرانہ جائزے کے بعد العربیہ ڈاٹ نیٹ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نحاس اور اس کے کارندے جسم فروشی کے لئے پیش کی جانے والی لڑکیوں پر نفسیاتی تشدد کرتے تھے۔ ان دوشیزاؤں کو زبردستی سمندری کروز اور بڑے بڑے محلات میں دولت مند گاہوں کی ہوس کی تکمیل کے لئے بھجوایا جاتا تھا۔

العربیہ کو فرانسیسی پریس کے تفصیلی جائزے کے بعد ملنے والی اطلاعات کے مطابق جسم فروشی کے نیٹ ورک کا آغاز مقتول لیبی رہنما کے بیٹے المعتصم القذافی کی برتھ ڈے پارٹی سے ہوا، جو ایلی نحاس نے سن 2004ء میں ترتیب دی۔

'الف لیلی' سالگرہ پارٹی پر ایک ملین اور 500 ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ اس میں دنیا بھر سے 20 خوبصورت ڈریس ڈیزائنرز، فنکارائیں اور فلم انڈسٹری کی مشہور شخصیات شامل تھیں۔ مہمانوں میں امریکی فلم پروڈیوسر اور اداکار کیون کوسٹنر اور امریکی اداکارہ کارمن الیکڑا بھی شریک تھیں۔ فرانسیسی پریس کے مطابق ایلی نحاس نے 2007ء میں عریاں امریکی فلموں کی اداکارہ کو کان کے کارلٹن ہوٹل میں بلوایا، المعتصم القذافی اس امریکی اداکارہ کے بہت دلدادہ تھے۔

المعتصم اور ایلی نحاس کا آپس میں تقریبا ہر ہفتے ہی رابطہ ہوتا تھا۔ اگر آج بھی ELIE NAHASکا نام لکھ کر انٹرنیٹ پر سرچ کی جائے تو آپ کے سامنے نحاس کا فیس بک اکاونٹ نتائج میں ٹاپ پر ہو گا، جس میں پیچ پر نحاس کے بجائے العتصم القذافی کی تصویر نظر آئے گی جو دونوں کے درمیان قرابت کا بین ثبوت ہے۔