.

مصر تنہا اسرائیل سے معاہدہ تبدیل نہیں کرے گا جمی کارٹر

صدر مرسی نے امن معاہدے میں تبدیلی کے لیے تجاویز دی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر محمد مرسی نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے میں تبدیلی کے لیے بعض تجاویز پیش کی ہیں لیکن مصر یک طرفہ طور پر ان تجاویز پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔

جمی کارٹر نے قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں نے صدر مرسی سے مصر اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ امن معاہدے کے بارے میں بات کی ہے اور انھوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ مصر اس کا احترام کرے گا''۔

سابق امریکی صدر نے بتایا کہ ''کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں تبدیلی کے لیے صدر مرسی نے اپنی بعض تجاویز کے بارے میں مجھے بتایا ہے اور وہ یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی کی دونوں جانب سے منظوری ضروری ہے۔ اگر مصر یا اسرائیل نے اپنے اپنے طور پر اس میں کوئی تبدیلی کی تو یہ معاہدہ تباہ ہو جائے گا''۔

یاد رہے کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان 1979ء میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔ تب جمی کارٹر امریکا کے صدر تھے۔ مصر میں گذشتہ سال سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اخوان المسلمون کی قیادت میں اسلامی جماعتوں کو پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں برتری حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد اسرائیل وقتاً فوقتاً امن معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے اپنے مزعومہ خدشات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر محمد مرسی بھی ماضی میں اخوان المسلمون سے وابستہ رہے تھے۔ اخوان کی قیادت متعدد مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ اس امن معاہدے پر نظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم صدر مرسی ایک سے زیادہ مرتبہ اس معاہدے کی پاسداری کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔