.

امریکی ساختہ اسٹنگر میزائل شامی باغیوں کے زیر استعمال روس

امریکا نے روس سے الزام کے حق میں ثبوت طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس کے ایک اعلیٰ جرنیل نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں کے پاس کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے امریکی ساختہ اسٹنگرز سمیت مختلف میزائل سسٹمز موجود ہیں جبکہ امریکا نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس نے چیف آف اسٹاف جنرل نکولائی مکاروف کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں کہ شامی فوج سے جنگ آزما باغیوں کے پاس امریکی ساختہ اسٹنگرز سمیت مختلف ممالک کے مہیا کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے اور کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے اسٹنگر میزائل موجود ہیں''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''ہمیں فی الوقت اس مر کی تصدیق نہیں ہوئی کہ باغیوں کو یہ میزائل کس ملک نے مہیا کیے ہیں اور ہمیں ان کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے''۔ دوسری جانب امریکا نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور روس سے کہا ہے کہ وہ اس کے حق میں ثبوت مہیا کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم نے شام کو کسی قسم اسٹنگرز مہیا کیے ہیں اور نہ ہم ایسا کریں گے۔ اگر روسی فیڈریش کے پاس شامی اپوزیشن کو اسٹنگرز مہیا کرنے کے کوئی ثبوت ہیں تو ہم یہ دیکھنا چاہیں گے''۔

مسٹر مکاروف نے اپنے بیان کہا کہ ''ممکن ہے یہ اور اس طرح کے دوسرے ہتھیار باغیوں کو بیرون ملک سے مسافر طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع سے مہیا کیے گئے ہوں۔ اس مقصد کے لیے ہر طرح کی ٹرانسپورٹ کو متحرک کیا جا سکتا ہے''۔ ان کے بہ قول یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ''امریکیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے شامی باغیوں کو کچھ نہیں دیا لیکن ہمارے پاس قابل اعتماد معلومات موجود ہیں کہ شامی باغیوں کے پاس غیر ملکی ساختہ انسانی کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے ہتھیار موجود ہیں اور ان میں امریکی ساختہ ہتھیار بھی ہیں''۔

لیکن امریکی ترجمان نولینڈ نے ان کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ''واشنگٹن نے شام میں جتنے بھی ہتھیاروں کی تصاویر دیکھی ہیں، وہ سب سوویت وارسا پیکٹ کے دور کی یادگار ہیں جبکہ ہم نے وہاں اسٹنگرز کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا ہے''۔

امریکا کے نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے جولائی میں یہ اطلاع دی تھی کہ باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے دو درجن میزائل حاصل کر لیے ہیں اور انھیں یہ میزائل ترکی کے راستے مہیا کیے گئے تھے۔

امریکا اور اس کے ہم نوا مغربی اور عرب ممالک ایران اور روس پر شامی حکومت کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کر رہے ہیں جبکہ شام اور ان دونوں ممالک نے ترکی، سعودی عرب اور قطر پر باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔ ترکی نے دو ہفتے قبل ماسکو سے دمشق جانے والے شام کے ایک مسافر طیارے کو انقرہ میں زبردستی اتار لیا تھا اور اس میں سے اسلحہ برآمد ہونے کی اطلاع دی تھی۔