.

لیبیا میں امریکی قونصل خانے پر حملے کا مشتبہ ملزم قاہرہ میں ہلاک

پولیس کی چھاپہ مار کارروائی میں سات افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس کی ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک مسلح شخص مارا گیا ہے۔

مصری پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی میں مارا گیا شخص گذشتہ ماہ لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی پر حملے میں ملوث تھا۔ اس حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر سمیت چار افراد مارے گئے تھے۔

بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق مقتول لیبی شہری تھا اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کا جنگجو تھا۔آزاد روزنامے المصری الیوم نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار جنرل محیی الدین السید کا بیان نقل کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص القاعدہ کا جنگجو ہو سکتا ہے۔اس کے بارے میں پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینۃ النصر میں ایک اپارٹمنٹ میں موجود ہے۔ اس کے بعد پولیس بدھ کو چھاپہ مار کارروائی کے لیے اس اپارٹمنٹ میں پہنچی تو اس کی اس مشتبہ جنگجو سے جھڑپ شروع ہوگَئی ۔اس دوران اس نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لیا۔

ایک اور روزنامے الوطن کی اطلاع کے مطابق مشتبہ مقتول لیبی شہری تھا۔ اس نے مزید یہ بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے ایک سیل سے وابستہ سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں سے پانچ لیبی شہری اور دومصری ہیں۔ان کے قبضے سے راکٹ گرینیڈز اور تین رائفلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں گیارہ ستمبر کو امریکا میں بنی شرانگیز فلم کے خلاف پُرتشدد مظاہرے کے دوران بعض مسلح افراد نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کردیا تھا۔اس حملے میں امریکی سفیر اور تین سفارت کار ہلاک ہو گئے تھے۔

بن غازی میں توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں قبائلی جنگجو اور مسلح افراد بھی شامل تھے۔ لیبیا میں القاعدہ طرز کے سنی جنگجو گروپ انصار الشریعہ پر امریکی قونصل خانے پر حملے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن اس گروپ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ واقعے میں کسی بھی طرح ملوث نہیں ہے۔