منی میں پاکستانی حاجن کے ہاں جڑواں بیٹیوں کی ولادت

حج کے دوران مکہ معظمہ میں انسانی اسمگلنگ کے دھندے کا عروج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی سمگلنگ عروج پر

Advertisement
ادھر مکہ معظمہ میں سالانہ حج کے دوران انسانی اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی ہے اور ہزاروں افراد غیر قانونی طور حج ادا کرنے کے لیے مکہ معظمہ پہنچے ہیں۔

مکہ معظمہ میں حج کی غرض سے آنے والے عازمین کے پاس خصوصی اجازت نامے ہوتے ہیں لیکن سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی تارکین وطن اور سعودی شہری ہر سال حج ادا کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر حرم مکی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھی میں سے ایک یحییٰ نامی عازم حج نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے سے اسمگل ہو کر مکہ معظمہ پہنچنے کے لیے دو ہزار سعودی ریال (پانچ سو تینتیس ڈالرز) ادا کیے ہیں۔

یحییٰ اور ان کے ساتھیوں مقدس شہر میں پہنچنے میں چار دن لگے ہیں۔ان کے ساتھ اٹھارہ اور افراد بھی ایک وین میں سوار ہو کر حج کے لیے بروقت پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ عازمین حج کو اسمگل کرکے لانے والی گاڑیاں عام طور پر مرکزی شاہراہوں پر پولیس چیک پوائنٹس سے بچنے کے لیے دشوار گذار اور ٹوٹی پھوٹی ذیلی سڑکوں والے راستے اختیار کرتی ہیں۔

یحییٰ نے بتایا کہ جب وہ مکہ معظمہ کے مشرقی دروازے الشارع پر پہنچے تو انھیں کچھ دیر کے لیے روک لیا گیا اور انھوں نے وہاں اسمگلروں کو رقم ادا کی ہے۔

مکہ معظمہ کے آس پاس متعدد علاقے ایسے ہیں جہاں اسمگلر ممکنہ عازمین حج کے ساتھ سودے بازی کرتے ہیں۔ وہ عام طور پر عازمین کو حج کے لیے مکہ معظمی تک پہنچانے کے ایک سو سے دو سو تک سعودی ریال وصول کرتے ہیں۔

ایک اسمگلر خالد الشہری کا کہنا ہے کہ غیر قانونی عازمین حج سے رقم کی وصولی بالکل جائز ہے کیونکہ اسمگلنگ کے ایک پھیرے کے دوران چھے گھنٹے سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے اور وہ انھیں ان کی منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے خطرناک اور دشوار گذار راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے اپنے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں