.

چین سفاک استانی کی اسکول کے کم سن بچوں پر تھپڑوں کی بارش

طالب علم کو آدھ گھنٹے میں 120 طمانچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دوران تعلیم بچوں پر سختی کا رحجان قدیم دور سے چلا آ رہا ہے لیکن دنیا بھر میں اب تعلیمی اداروں میں'مار نہیں، پیار' کا کلچر عام کرنے کی پالیسیاں بھی وضع کی جا رہی ہیں۔ کئی ملکوں میں کم سن بچوں پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کو سماجی جرم سمجھا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں چین کا نام بھی سر فہرست ہے۔ تاہم یو ٹیوب پر ایک ویڈیو فوٹیج میں چین کے ہی ایک پرائمری اسکول کی خاتون ٹیچر کے ہاتھوں کم عمر بچوں کو بُری طرح پٹتے دکھایا گیا ہے۔



سی سی ٹی وی کیمرے سے لی گئی اس فوٹیج میں ایک خاتون کو پے در پے ایک طالب علم کے منہ پر تھپڑ رسید کرتے دکھایا گیا ہے۔ سبق یاد نہ کرنے والے بچوں کو یہ معلمہ آدھے گھنٹے میں 120 طمانچے رسید کرتی ہے۔



ایک بچی کے والد نے خاتون ٹیچر کے وحشیانہ طرز عمل پرسخت احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیچر کا شروع ہی سے یہ رویہ ہے جس کے باعث بچے سخت خوف زدہ رہتے ہیں۔ جب بھی کسی بچے کی جانب سے سبق یاد نہ ہونے کی شکایت سامنے آتی ہے تو یہ استانی بچے پر تھپیڑوں کی بارش کر دیتی ہے۔