.

شام میں انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیاں جاری ہیں یو این

عالمی ادارے کے نمائندے شام میں داخلے کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں امن وامان کی مساعی کے علی الرغم ملک میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ صورت حال کی جانکاری کے لیے وہ دمشق کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں صدر بشار الاسد کی اجازت کی ضرورت ہے لیکن تا حال ان کے اس مطالبے پر دمشق حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے۔



العربیہ ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی امن کمیٹی کی سوئس خاتون جج کارلا ڈیل پونٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امن وامان کی کوششوں کے باجود شام میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض دوسرے ملکوں میں بھی شام جیسی صورتحال ہے۔



واضح رہے مسز ڈیل پونٹی اقوام متحدہ کے زیر انتظام فوجداری عدالت کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دوبارہ اقوام متحدہ ہی کے مبصرین میں شامل ہیں۔ انہیں اس سال شام میں انسانی حقوق کی صورت حال کی نگرانی کے لیے یو این امن مشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم وہ فی الحال دمشق نہیں آ سکی ہیں۔ انہوں نے شام میں خونریزی پر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو قصور وار قرار دے رکھا ہے۔



درایں اثناء شام میں جاری فسادات کی تحقیقات کی خاطر قائم عالمی کمیٹی کے برازیلی چیئرمین پاولو پنییرو نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر بشار الاسد سے کمیٹی کے ممبران کو دمشق داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ صدر اسد ان کی ٹیم کا دمشق میں استقبال کریں گے۔



خیال رہے کہ شام میں جرائم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر مشتمل یہ کمیٹی ایک سال قبل قائم کی گئی تھی لیکن اسے ابھی تک شام میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ کمیٹی نے شام سے باہر جنگ سے متاثرہ اور حکومت اور اپوزیشن کے 1000 افراد کے انٹرویوز کیے ہیں۔