.

شمالی افغانستان کی مسجد میں دھماکا، 5 بچوں سمیت 41 جاں بحق

خودکش حملہ نماز عید کے دوران کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شمالی افغانستان کی ایک مسجد میں جمعہ کے روز نماز عید کے موقع پر خودکش بم حملے میں کم سے کم 41 افراد جاں بحق ہو گئے۔

فریاب صوبے کے ڈپٹی گورنر عبدالستار باریز نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ خودکش بمبار پولیس یونیفارم پہنے ہوئے تھا۔ بہ قول گورنر دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس میں پانچ بچوں سمیت 41 افراد مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحی کے پہلے دن ادا کی جانے والی نماز عید میں صوبائی عہدیدار بھی بڑی تعدا میں موجود تھے۔

شمالی افغانستان میں پولیس ترجمان لعل محمد احمد زاد نے بتایا کہ خودکش بمبار نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑایا جب افغان شہری مسجد میں نماز کے لئے صف بندی کر رہے تھے۔ بہ قول پولیس ترجمان، جان بحق ہونے والوں کی نصف تعداد خود پولیس اہلکاروں کی ہے جو مسجد کی سیکیورٹی پر مامور تھے۔

احمد زاد نے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کا اصل ہدف فریاب پولیس چیف دھماکے میں جان بحق ہوئے ہیں یا پھر وہ اس کارروائی میں محفوظ رہے۔

فوری طور پر کسی تنظیم نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم افغانستان کے مغرب نواز صدر حامد کرزئی کا تختہ الٹنے کے لئے خودکش حملے افغان طالبان کا من پسند مشغلہ ہے۔

شمالی افغانستان امریکی حملے میں حکومت سے بیدخل کئے جانے والے طالبان کا قدرے پرسکون مسکن ہے۔ یہاں مقیم طالبان افغانستان جنوب اور مشرق میں افغان اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

تاہم افغانستان میں ایک لاکھ نیٹو فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالیہ دنوں میں طالبان نے شمالی علاقے میں بھی اپنی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔