.

لندن سے ایرانی اپوزیشن ٹی وی چینل رھا کا اجرا

'چینل آزادی اور جمہوریت کے لئے کام کرے گا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی اپوزیشن نے لندن سے اپنے ترجمان سیٹلائیٹ ٹی وی چینل کا آغاز کر دیا ہے۔'رھا' کے نام سے شروع ہونے والا چینل ابتدائی طور پر فارسی زبان میں نشریات پیش کرے گا اور اس کے رپورٹرز اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر خدمات سرانجام دیں گے۔

'رھا' چینل ایران میں جمہوریت کے قیام، ملائیت پر مبنی ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے اور ایرانی اپوزیشن کے اندرون اور بیرون ملک رابطہ سینٹر کا کام بھی کرے گا۔ نئے چینل پر خبروں کے علاوہ حالات حاضرہ پر ٹاک شوز بھی پیش کیے جائیں گے تاکہ ایرانی عوام کو اصل صورت حال سے آگاہ رکھا جا سکے۔ واضح رہے ایران اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں اس کے نمائندے خفیہ طریقے سے رپورٹنگ کریں گے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ نے چینل کے نمایاں خدوخال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ'رھا' کے معنی آزادی کے ہیں۔ چینل کے بانی ایرانی اپوزیشن کی نمائندہ 'گرین موومنٹ' کے ایک سرکردہ لیڈر اور ایرانی تاجر امیر حسین جاہنشانی ہیں۔ جاہنشانی کو سنہ 2009ء میں ایران میں ہوئے صدارتی انتخابات کے بعد ٹی وی چینل کی تجویز دی گئی تھی لیکن وہ اس وقت اس پر قائل نہیں ہوئے تھے۔ وقت کے ساتھ ایران میں اپوزیشن کا دائرہ تنگ کیے جانے پر جاہنشانی کے دوستوں کا مشورہ قابل عمل ثابت ہوا اور وہ بالآخر جاہنشانی کو ٹی وی چینل کے لیے فنڈز جاری کرنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔



ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹیلی ویژن چینل کے مالک اور گرین موومنٹ کے رہ نما جاہنشانی نے العربیہ کے نامہ نگار سے لندن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے اب بخوبی اندازہ ہوا ہے کہ عرب ممالک میں لوگوں کی بیداری میں ٹیلی ویژن چینلوں کا کلیدی کردار ہے۔ یہ ٹی وی چینلز کا کمال ہے کہ انہوں نے عرب بہاریہ کی تحریکوں کے دوران عوام میں اپنے حقوق کا شعور اور ان کے حصول کا جذبہ پیدا کیا۔ آزاد اور عوامی حقوق کے علمبردار ذرائع ابلاغ کی مساعی کے نتیجے میں اس وقت کئی عرب ملکوں کے عوام اپنی منزل مقصود پا چکے ہیں۔ ہمارے سامنے مصر کی مثال موجود ہے جہاں ایک مطلق العنان حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں طاقت تو عوام کی استعمال ہوئی مگر میڈیا نے عوام کی رہ نمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ میں نے بھی اسی نقطہ نظر کے تحت ایک ٹی وی چینل شروع کر رہا ہوں‘‘۔



ایک سوال کے جواب میں جاہنشانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹی وی چینل کے لیے رقم خرچ کرنے کا فیصلہ پچھلے سال نومبر میں کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ممتاز ایرانی صحافی اصغر رامز انبور کو اس کام پر مامور کیا۔ اصغر رامز انبور سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں نائب وزیر کے عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ تاہم بعد ازاں اختلافات کے باعث انہوں نے ملک چھوڑ دیا تھا اور لندن آ گئے تھے۔

تہران نواز میڈیا کے خلاف اعلان جنگ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی کاروباری شخصیت جاہنشانی کے ملکیتی 'رہا' ٹی وی چینل کے ایران میں موجود تمام نامہ نگار خفیہ ذرائع سے رپورٹنگ کریں گے۔ ٹی وی کی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے اس کی ایک ویب سائٹ بھی بنائی جائے گی، جہاں ٹی وی پر نشرخبروں کے علاوہ بھی تجزیاتی رپورٹیں شائع کی جائیں گی۔

'رھا' کے منیجنگ ڈائریکٹر اصغر رامز انبور نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں اس وقت 19 سرکاری چینلز کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں وہ ایک نئے ٹی وی چینل کو ان نشریاتی اداروں کے خلاف جنگ کے لیے لانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں ہمارے نامہ نگار اور فوٹو گرافرز خفیہ ذرائع سے رپورٹنگ کریں گے اور عوام کے سامنے اصل منظر نامہ پیش کریں گے۔

اصغر رامز انبور نے مزید کہا کہ انہوں نے ٹی وی کی آزمائشی نشریات چند ہفتے قبل شروع کی تھیں لیکن ایرانی حکومت کی جانب سے شہریوں کو چینل تک رسائی سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران میں آزادی اور جمہوریت کا عزم لے کر حکومتی میڈیا کے خلاف اعلان جنگ کر چکے ہیں۔ اب وہ اس جنگ کو جیت کر دکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ’’بی بی سی فارسی‘‘ سمیت کئی دوسرے آزاد ٹیلی ویژن چینلوں سے مدد حاصل کریں گے اور مل کر ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے فضاء ہموار کریں گے۔

العربیہ ٹی وی کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ برطانیہ ہی سے ایرانی اپوزیشن 'الغد' کے نام سے ایک دوسرے ٹیلی ویژن چینل کی نشریات کو بھی جلد از جلد شروع کرنے والی ہے۔ ممکن ہے کہ 'الغد' پیش آئند موسم گرما میں ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات سے قبل ہی اپنی نشریات شروع کر دے۔