.

میانمار نسلی تشدد کے واقعات میں 112 ہلاکتیں

بدھ متوں کے حملوں کے بعد مسلمانوں کی عید کی خوشیاں ماند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
میانمار (برما) میں بدھ متوں اور مسلمانوں کے درمیان نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے تازہ واقعات میں ایک سو بارہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں مکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔

تشدد کے تازہ واقعات میانمار کی مسلم اکثریت ریاست راکھین (اراکان) میں پیش آئے ہیں۔ ریاست کے سرکاری ترجمان وین مائینگ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''جمعہ کی صبح تک روہنگیا مسلمانوں اور بدھ متوں میں جھڑپوں میں دونوں طرف سے اکاون مرد اور اکسٹھ خواتین ماری جا چکی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ریاست کے چار شہروں اور قصبوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں سیکڑوں افراد زخمی اور مزید ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ تازہ لڑائی کے بعد روہنگیا مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم نے عیدالاضحیٰ کو سادگی سے منانے کا اعلان کیا ہے۔

میانمار کے حکام کے مطابق اراکان میں جون سے اب تک دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر ہنگامی قانون نافذ کر رکھا ہے۔ میانمار کی حکومت نے پہلی مرتبہ واضح طور پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور صدر تھین سین کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب دنیا انھیں ملاحظہ کر رہی ہے''۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے جمعہ کو برمی دارالحکومت ینگون سے جاری کردہ ایک بیان میں انتہا پسندوں کے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو نہ روکا گیا تو حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اصلاحات کے عمل کے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔

امریکا نے بھی میانمار میں مسلمانوں اور انتہا پسند بدھ متوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے وقعات کی مذمت کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ تشدد کا سلسلہ فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ریاست اراکان میں جون سے روہنگیا مسلمانوں پر انتہا پسند بدھ متوں کے حملے جاری ہیں۔ بدھ متوں کو سرکاری سکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت اور سر پرستی حاصل رہی ہے اور ان کی کارروائیوں میں گذشتہ پانچ ماہ کے دوران غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق بیس ہزار سے زیادہ مسلمان شہید اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ برمی حکومت نے صرف دو سو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں میانمار کی سرکاری سکیورٹی فورسز پر روہنگیا مسلمانوں پر فائرنگ کرنے اور ان پر حملے کرنے والے مسلح جنگجو بدھ متوں کا ساتھ دینے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ برمی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ مہیا کرنے کے بجائے انھیں قتل اور بے گھر کرنے والوں کا ساتھ دے رہی ہے۔

یاد رہے کہ ریاست اراکان سے تعلق رکھنے والے آٹھ لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو گذشتہ کئی عشروں سے برما کی فوجی حکومت کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان سے جائیدادوں کی ملکیت کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں بنیادی شہری اور انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

برمی حکومت کی ان ظالمانہ کارروائیوں اور مسلم کش اقدامات کی وجہ سے روہنگیا مسلمان اپنے ہی ملک میں بے ریاست شہری ہو کر رہ گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے بہ قول وہ اس وقت دنیا کی سب سے مقہور و مظلوم اقلیت ہیں جن کا کوئی پُرسان حال نہیں۔