.

یہودی بستیوں سے وابستہ کمپنیوں کے عالمی بائیکاٹ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی جنرل اسمبلی میں رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندہ رچرڈ فالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے منفعت بخش کاروبار کرنے والی تیرہ کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں۔

مسٹر رچرڈ فالک نے یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردہ رپورٹ میں کیا ہے۔ان کا کہناہے کہ ''کاروباری اداروں کو عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے''۔جنرل اسمبلی میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی دراندازوں کے لیے قائم کی گئی بستیوں سے متعلق امور پر غور کیا گیا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ان کمپنیوں کے خلاف فوجداری قانون یا پھر شہری حقوق سے متعلق ذمے داریاں پوری نہ کرنے پر کارروائی کی جانی چاہیے۔انھوں نے جن کمپنیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا ہے ان کے نام یہ ہیں: کیٹر پلر،ویولیا انوائرنمنٹ ،جی فور ایس ایم ،دی ڈکشیا گروپ، والوو گروپ، روال ہولڈنگ گروپ، البٹ سسٹمز، ہیولیٹ پیکارڈ ، مہادرین ،موٹرولا ،اسا ابلوئے اور سمیکس۔

انھوں نے رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ ''اسرائیل جس طرح بڑے پیمانے پر مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے،اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان علاقوں کو مستقبل میں مکمل طور پر خالی نہیں کرنا چاہتا اور وہ ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے''۔

مسٹر رچرڈ فالک کے بہ قول:''ان کمپنیوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کا نفاذ کرنا ہوگا، انسانی قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا اور اس امر کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا کہ فلسطینیوں کے حقوق کو متاثر کرنے والی ان کی کوئی بھی سرگرمی قابل احتساب ہوگی''۔

انھوں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں ان کے (مسٹر فالک کے) انسانی اہداف کو پوراکرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہاہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے چالیس فی صد علاقے پر اسرائیلی یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں۔

انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ قریباً چھے لاکھ اسرائیلی شہریوں (یہودیوں )کو فلسطینی علاقوں میں منتقل کیا جاچکا ہے اور قریباً دولاکھ یہودیوں کو مقبوضہ بیت المقدس میں بسایا جاچکا ہے۔سال 2011ء میں یہودی آبادکاروں کی تعداد میں ریکارڈ پندرہ ہزار کا اضافہ ہوا تھا۔

انھوں نے قرار دیا ہے کہ اسرائیلی بستیوں سے وابستہ کاروباروں کو چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب قراردیا جاسکتا ہے۔انھوں نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ضمن میں اپنا کوئی فیصلہ جاری کرے۔ واضح رہے کہ چوتھے جنیوا کنونشن میں جنگ زدہ ممالک اورعلاقوں میں انسانی حقوق کے تحفظ پر زوردیا گیا ہے۔



مسٹر رچرڈ فالک کو فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ منافع خورادارے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی حقوق کے قانون کے تحت نہیں لاتے،اس وقت تک ان کی سرزنش کی جاتی رہنی چاہیے اور انھیں مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کریں۔