.

حج کے آخری مناسک جاری، حجاج کی طواف زیارت کے لیے مکہ واپسی

30لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ عازمین نے فریضہ حج ادا کیا: حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
حجاج کرام مکہ مکرمہ میں حج کے آخری مناسک ادا کر رہے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد نے اتوار کو منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد مسجد الحرام میں کعبۃ اللہ کا الوداعی طواف کیا ہے۔

منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل سوموار کو بھی جاری رہے گا۔ اپنے مناسک پورے کرنے والے حجاج مدینہ منورہ کی جانب جا رہے ہیں۔ البتہ حج سے قبل مدینہ منورہ سے ہو کر واپس مکہ پہنچنے والے حجاج کرام نے اپنے اپنے ممالک کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے حج کا سرکاری طور پر سوموار کو اختتام ہو رہا ہے۔

وادی منیٰ میں تین شیطانوں (جمرات) کو کنکریاں مارنے کا عمل جمعہ کو شروع ہوا تھا اور اس دوران ایک سو نواسی ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں حجاج کرام نے اطمینان سے حج کا یہ اہم رکن ادا کیا ہے اور گذشتہ برسوں کے برعکس رمی جمرات کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

سعودی حکومت نے رمی جمرات کے دوران بھگدڑ سے بچنے اور رش کو کم کرنے کے لیے پانچ منزلہ پُل تعمیر کیے ہیں جہاں سے حجاج بہ سہولت تینوں شیطانوں کو کنکریاں مار سکتے ہیں۔اس کے علاوہ وادی منیٰ میں اس مرتبہ آگ سے محفوظ رہ سکنے والے خیمے نصب کیے گئے تھے اور گیس کنستروں اور کھانا پکانے کے تیل کو وہاں لانے پر پابندی عاید تھی۔

قبل ازیں رمی جمرات کو حج کا سب سے مشکل مرحلہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور ماضی میں بھگدڑ کے علاوہ خیموں میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حج کے موقع پر سکیورٹی فورسز کے ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار پولیس اہلکار اور محکمہ شہری دفاع کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ جمرات کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی اور ابتدائی طبی امداد کے لیے متعین کردہ ٹیمیں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہی ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق اس مرتبہ تیس لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ فرزندانِ توحید نے فریضٔہ حج ادا کیا ہے۔ غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر مکہ مکرمہ حج کی نیت سے آنے والے سعودی شہریوں اور غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔