.

سعودی فرمانروا کا یو این سے ادیان کے تحفظ کا مطالبہ

امت مسلمہ کا خود سے مکالمہ شرعی واجب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین عبداللہ بن عبدالعزیز نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام سماوی مذاہب اور انبیاء کی اہانت کی مذمت پر مبنی قانون تشکیل دے۔

امسال سعودی حکومت کی خصوصی دعوت پر دنیا بھر سے حج کے آنے والے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا کا کہنا تھا کہ امت اسلامیہ کی اپنی خود احتسابی دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین میں غلو، جہالت اور خرابی پیدا کرنے جیسے معاملات مسلمانوں کی امیدوں کے قاتل ہیں۔

انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ مذاکرات اعتدال کو بڑھاتے ہیں۔ ان کے ذریعے باعث نزاع امور، انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ میں شروع کئے گئے اسلامی مذاہب کے درمیان مکالمے کے مرکز کا مطلب تمام عقائد کا اتفاق نہیں بلکہ اس مرکز کی اصل روح یہی ہے کہ مختلف عقائد اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی کے معاملات کریں۔

توہین آمیز فلم

سعودی فرمانروا نے اسلام اور نبی اسلام کی شان میں گستاخی پر مبنی امریکی فلم کی مذمت کرتے ہوئے مملکت میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے کو حکم دیا کہ وہ ان تمام لنکس اور روابط کو بند کر دیں جن کے ذریعے ممکنہ طور پر مذموم فلم تک رسائی ممکن ہے۔

انہوں نے یو ٹیوب سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ویب سائٹ سے اس مذموم فلم کے کلپس کو فوری طور پر ہٹا دیں۔ یاد رہے کہ اس فلم کی وجہ سے مصر، پاکستان اور دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں اربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا اور لیبیا میں امریکی سفیر سمیت چار دیگر سفارتکاروں کو بنغازی میں فلم کے خلاف پرتشدد مظاہرے میں ہلاک کر دیا گیا۔