.

سوڈان کی اسلحہ فیکٹری پر فضائی حملے کی سیٹلائٹ تصاویر جاری

بمباری سے عمارت میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے نواح میں واقع فوج کی ایک اسلحہ فیکٹری پر فضائی حملے کی خلائی سیارے سے لی گئی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ ان میں فیکٹری کی عمارت میں بمباری سے بڑے بڑے سوراخ دیکھے جا سکتے ہیں۔

امریکا میں قائم سیٹلائٹ سینٹی نیل پراجیکٹ (ایس ایس پی) نے سوڈان کی تباہ شدہ فیکٹری کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں۔ ان میں یرموک ملٹری کمپلیکس میں باون فٹ چوڑا گڑھا دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ادارے نے امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''تصاویر میں چھے بڑے گڑھے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قریباً سولہ میٹر چوڑا ہے۔ تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گڑھے فضائی بمباری کے نتیجے میں پڑے ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اگر فیکٹری میں دھماکے راکٹ یا میزائل لگنے کے نتیجے میں ہوئے تھے اور ان میں اس میں رکھے گئے کنٹینرز کو نشانہ بنایا گیا تھا تو یہ ایک کامیاب سرجیکل حملہ تھا۔ اس کے نتیجے میں وہاں پڑے قریباً تمام کنٹینر تباہ ہو گئے تھے''۔

دھماکوں سے سوڈانی فوج کی ملکیتی اسلحہ ساز فیکٹری کی دو عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ ان کے علاوہ اکیس عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ یہ تمام عمارتیں سات سو مربع میٹر کے علاقے میں واقع ہیں۔

خلائی سیارے کی تصاویر کے مطابق یرموک ملٹری کمپلیکس میں تیل کی ایک ذخیرہ گاہ، فوجی ڈپو اور اسلحہ وگولہ بارود کا پلانٹ ہے۔ یرموک خرطوم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گیارہ کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔

سوڈان نے اسرائیل پر الزام عاید کیا تھا کہ اس کے چار جنگی طیاروں نے خرطوم کے نواح میں واقع اس اسلحہ فیکٹری پر گذشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بمباری کی تھی۔سوڈان کے وزیرثقافت اوراطلاعات احمد بلال عثمان نے بدھ کو خرطوم میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ ''ہمارے خیال میں اسرائیل نے یہ بمباری کی ہے''۔

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے جمعہ کو عیدالاضحیٰ کے موقع اپنی تقریر میں اسرائیل کو ''کم ظرف'' قرار دیا تھا اور اس حملے کو 1998ء میں خرطوم میں ایک دوا ساز فیکٹری پر حملے کے مشابہ قرار دیا تھا۔

مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کی اطلاع کے مطابق '' حملے کے بعد زور دار دھماکے ہوئے تھے اوراس کے بعد گولہ بارود اڑ کر دور جاگرا تھا جس سے خوف وہراس پھیل گیا''۔ انھوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے بعد سیاہ دھواں فضا میں ہر طرف پھیل گیا تھا ۔اس سے متعدد قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا، ان کی چھتیں اڑ گئی تھیں اور ان کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔

یاد رہے کہ سن 2009ء میں سوڈان کے شمال مشرقی علاقے میں گاڑیوں کے ایک قافلے پر بھی فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں متعدد افراد مارے گئے تھے۔یہ یقین کیا جاتا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس قافلے پر حملہ کیا تھا اور اس میں شامل لوگ مبینہ طور غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔ اسرائیل نے آج تک اس حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ سوڈانی حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ اس قافلے کے ذریعے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے اسلحہ بھیجا جا رہا تھا۔

اس واقعہ سے ایک عشرہ قبل 1998ء میں امریکا نے خرطوم میں واقع ایک دوا ساز فیکٹری پر کروز میزائل فائر کیے تھے جس سے یہ فیکٹری تباہ ہوگئی تھی۔امریکا نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ اس فیکٹری کا القاعدہ کے لیڈر (اب مقتول) اسامہ بن لادن سے تعلق تھا۔ سوڈانی صدر نے اپنی تقریر میں اسی حملے کی جانب اشارہ کیا تھا۔