.

مصری رقاصہ پر اہل بیت کی توہین کا الزام

اہل تشیع کیمونٹی میں غم و غصہ کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں بننے والی 'عبدہ موتہ' نامی فلم نے ملک کی اہل تشیع آبادی کے مسلکی جذبات بر انگیختہ کر دیئے ہیں۔ فاطمیہ انسانی حقوق سینٹر کے ترجمان انور محمد نے خبردار کیا ہے کہ فلم میں مشہور رقاصہ دنیا نے ایک متنازعہ گانے پر رقص کیا ہے جو اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا باعث ہے۔

مصری اخبار 'الصباح' کے مطابق بیان میں رقاصہ دینا نے 'یا طاھرہ یا م الحسن اور الحیسن' بول والے ایک نغمے پر فلم میں ڈانس کیا ہے، یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ الطاھرہ سے مراد السیدہ فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنھا) ہی ہیں۔

اہل تشیع کے بیان میں اہانت آمیز فلم کی شدید مذمت کی گئی ہے کیونکہ اہل سنت اور شیعہ اہل بیت کی توہین کو یکساں طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اسی طرح دونوں فریق اہانت صحابہ سے بھی اپنی بریئت کا اظہار کرتے ہیں۔ بیان میں جامعہ الازہر اور مفتی دیار مصر سے بھی اہل بیت کی اہانت پر مبنی فلم کی مذمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ادھر العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فلمی رقاصہ دینا کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں، ایسے میں ان پر اہانت رسول کی تہمت باندھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا متنازعہ نغمے پر رقص بھی بےہودگی کے زمرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے اہل تشیع کے بیان میں قانونی کارروائی کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہو وہ قانونی کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔

فلم میں دینا ایک عوامی رقاصہ کا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ دوسری اہم کاسٹ میں محمد رمضان، حوریہ فرغلی شامل ہیں۔ فلم کی ہدایات اسماعیل فاروق نے دی ہیں۔