.

سینڈی طوفان سے امریکا میں معمولات زندگی اور سیاست تہہ و بالا

طوفان سے چھ کروڑ امریکیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے صدارتی انتخابی مہم منسوخ کرتے ہوئے واشنگٹن میں قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق وفاقی ادارے کے عہدے داروں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس کیا۔ بریفنگ کے بعد صدر نے کہا کہ سمندری طوفان سے نمٹنے کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور مشرقی ساحل سمندر کے علاقوں میں رہنے والوں کو متنبہ کیا کہ طوفان کے خطرے کو غیر سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔

طوفان کے پیشِ نظر، صدر اوباما کے ری پبلیکن مدمقابل اور سابق گورنر مِٹ رومنی نے بھی ورجینیا کی فیصلہ کُن ریاست میں صدارتی مہم کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔ ’سینڈی‘ کی ممکنہ تباہی کے پیش نظر بڑے شہروں بشمول واشنگٹن، فلیڈیلفیا اور نیویارک کے سرکاری اسکولوں اور دفاتر میں تعطیل کا اعلان کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹریفک کی آمدو رفت بھی بند ہے۔
امریکا میں پیر کو اسٹاک مارکیٹیں بند ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اپنے تمام اجلاس منسوخ اور دفاتر بند کر دیے ہیں۔ مشرقی حصوں میں طوفان کے باعث ریلوے کا نظام متاثر ہوا ہے جہاں شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرین سروس معطل اور ہزاروں پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔

اُدھر نیویارک میں، جہاں رات کو بھی زندگی رواں دواں رہتی ہے، سینڈی کے خطرے کے پیش نظر حکام نے اتوار کے دن شام سات بجے سے شہر کے سب وے نظام کو بند کر دیا ہے۔ گورنر اینڈریو کومو کے بہ قول: ’اتوار کی شام سات بجے سے، نیو یارک میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی نے اپنے سب وے سسٹم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ نیویارک میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ شمالی امریکا کے ایک دِن میں 43 لاکھ سے زائد افراد کے زیر استعمال سب سے بڑے مسافر بردار نیٹ ورک کی سہولت کو بند کیا گیا ہو۔

پیر کو علی الصباح ’ہری کین سینڈی‘ کی ہواؤں کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی جبکہ جھکڑوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 165 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1200 کلومیٹر تک کے علاقے کو ہدف بنا سکتا ہے، جو پیر کی شام گئے ساحل سمندر سے ٹکرائے گا۔

اس طوفان سے چھے کروڑ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے پاس پینے کا پانی، ڈبوں میں بند خوراک اور بیٹری کا وافر اسٹاک جمع کر لیں اور کئی روز تک بغیر بجلی کے رہنے کے امکان کو ذہن میں رکھیں۔