.

افغانستان صدارتی انتخابات کے لیے 5 اپریل 2014ء کی تاریخ مقرر

انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان بدھ کو متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان میں نیٹو فوج کے حتمی انخلاء سے چند ماہ قبل 5 اپریل 2014ء کو آیندہ صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جنگ زدہ ملک کے آزاد الیکشن کمیشن نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ''انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کر دی گئی ہے اور اس کا باضابطہ اعلان بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں کیا جائے گا''۔ واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی پر حزب اختلاف کی جانب سے نئے صدارتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

الیکشن کمیشن کے ایک سنئیر عہدے دار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''صدارتی انتخابات 5 اپریل 2014ء کو ہوں گے''۔

افغانستان سے امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج کا انخلاء دسمبر2014ء تک مکمل ہوگا۔نیٹو فوج کے ترجمان ڈومینک میڈلے نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں''آیندہ انتخابات کی شفافیت اور اعتباریت نیٹو کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہوگی''۔

موجودہ صدر حامد کرزئی آئین کے تحت تیسری مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ وہ 2001ء میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان کے حکمران چلے آ رہے ہیں۔ وہ 2004ء میں عوام کے براہ راست ووٹوں کے ذریعے پہلی مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے اور 2009ء میں دوسری مرتبہ دھاندلیوں اور فراڈ کے سائے میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

ایک سرکردہ عالمی تھنک ٹینک ''انٹرنیشنل کرائسس گروپ'' نے اسی ماہ خبردار کیا تھا کہ اگر صدارتی آیندہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو نیٹو فوج کے انخلاء کے ساتھ ہی کابل حکومت گر جائے گی''۔ اس نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ''سکیورٹی کی ناقص صورت حال کے پیش نظر افغانستان میں آیندہ صدارتی انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر فراڈ اور دھاندلیوں کا امکان ہے''۔

افغان حکومت نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ آیندہ صدارتی انتخابات کی نگرانی کے لیے غیر ملکیوں کی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔ اس بیان کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ گذشتہ کی طرح ان انتخابات کی ساکھ بھی مجروح ہو سکتی ہے۔

صدر کرزئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''انتخابی شکایات کمیشن میں غیر ملکیوں کی موجودگی افغانستان کی خود مختاری کے منافی ہے''۔ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ ارکان پر مشتمل شکایات کمیشن میں سے دو غیر ملکیوں کو نکال دیا جائے گا۔

تاہم حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی کا کہنا ہے کہ''غیر ملکیوں کو الیکشن مانیٹر کے طور پر خوش آمدید کہا جائے گا لیکن خود حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ انتخابات شفاف ہوں''۔