.

دہشت گرد منصوبہ بناؤ ۔۔۔ نیویارک یونیورسٹی میں طلباء کو اسائمنٹ

نیویارک پولیس کے احتجاج پر کورس ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں نیویارک یونیورسٹی کے طلبہ اس وقت مخمصے کا شکار ہو گئے جب انہیں امریکی نیوی کی سابق کرائم انوسٹیگٹر میری ہیلن ماراس نے دہشت گردی کا ایک فرضی پلان تیار کرنے کی اسائمنٹ دی۔

ماراس کے بعض طلبہ نے جب ہوم ورک کے موضوع پر اپنے تحفظات کا یہ کہتے ہوئے اظہار کیا کہ ایسی مشق ان پولیس افسروں کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہو گی کہ جو گیارہ ستمبر 2011ء کو امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے خاتون ٹیوٹر ماراس نے کہا کہ 'اس مشق کا مقصد کورس میں شامل طلبہ کو پولیسنگ، انٹلیجنس اور انسداد دہشت گردی کی تربیت دینا ہے۔'

امریکی روزنامے 'نیویارک پوسٹ' نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا کہ ہیلن ماراس نے یونیورسٹی میں 'کراس باڈر ٹیررازم' کورس کے شرکاء کو یہ اسائمنٹ دی کہ وہ دس سے پندرہ صفحات پر محیط ایک خیالی دہشت گرد پلان تیار کریں۔ نیز انہیں اس مشق میں دہشت گردی منصوبے پر عمل کے بعد کی صورتحال سے نپٹنے کا لائحہ عمل بھی تجویز کرنا ہو گا۔

کورس انسٹرکٹر کے مطابق طلبہ کو اپنی مشق میں 'دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے گروپ' کے مقاصد کا بھی تعین کرنا ہو گا۔ نیز طلبہ اپنی مشق میں اس تنظیم کی صلاحیت کا بھی اجمالی تذکرہ بھی کریں گے۔

میری ہیلن نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اس مشق کو ضابطہ تحریر میں لانے سے پہلے ایک دہشت گرد کی طرح سوچیں تاکہ وہ منصوبے کو رو بعمل لانے، اس میں شرکاء کی تعداد اور مالی امور کا بھی تفصیلی احاطہ کر سکیں۔ بہ قول خاتون انسٹرکٹر ایسی سوچ رکھنے والے طلبہ ہی دراصل حکومت اور سرکاری اداروں کا ایسی دہشت گرد کارروائی پر ردعمل بہتر طور جان سکیں گے۔

نیویارک یونیورسٹی کے اس کورس کا خاتمہ خوشگوار طریقے سے نہیں ہوا کیونکہ نیویارک پولیس نے اسے ایک مضحکہ خیز کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کورس کے فارغ التحصیل انسداد دہشت گردی میں مہارت کے بجائے دہشت گرد بن کر سامنے آنے تھے، تاہم خاتون انسٹرکٹر نے اس سوچ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک پولیس نے اپنے تحفظات مجھے براہ راست کیوں نہیں بتائے حالانکہ متعدد پولیس اہلکار میرے کورس میں شریک تھے۔

نیویارک پولیس نے اس معاملے پر باقاعدہ ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔