.

سینڈی طوفان نے امریکا میں تباہی مچا دی، 13 ہلاکتیں

نیویارک میں برقی رو بند، مین ہٹن تاریکی میں ڈوب گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمندری طوفان سینڈی کے طوفان کے باعث کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکا کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے کے بعد وہاں کا پورا خطہ موسلا دھار بارش، تیز ہواؤں اور شدید سیلاب کی زد میں ہے۔

نیویارک شہر شدید سیلاب کی زد میں ہے، شہر میں سمندری پانی کی بڑی لہریں داخل ہو گئی ہیں جس سے زیرِ زمین ریلوے سرنگیں زیرِ آب آ گئی ہیں اور مین ہیٹن کے بڑے علاقے میں برقی رو معطل ہو گئی ہے۔
ادھر لانگ آئی لینڈ، نیو جرسی اور نیویارک کی کئی گلیوں میں طوفان کی آمد سے پہلے ہی سمندری پانی داخل ہوگیا تھا۔ نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں طوفان نے ایک کرین کو جزوی طور پر تباہ کردیا ہے۔ سمندری طوفان سینڈی کے باعث پیدا ہونے والی انتہائی بلند لہروں کے پیشِ نظر نیویارک شہر کے سیلاب سے بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

امریکا میں محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندری طوفان سینڈی مشرقی ساحلی علاقوں میں رہنے والے پانچ کروڑ افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔ حکام کے مطابق اس طوفان کے باعث اوہائیو میں شدید برفباری ہو سکتی ہے اور اس کا اثر بجلی کی فراہمی پر ہو سکتا ہے۔

امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ مشرقی ساحل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مبینہ طور پر اس سے نظامِ زندگی تہس نہس ہو سکتا ہے۔ طوفان سے وسط اوقیانوس کے کنارے کے علاقوں میں بھی سیلاب آ سکتا ہے۔

اتوار کو شہر کے میئر نے زیریں علاقوں سے پونے چار لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیویارک کی بندر گاہ بند کر دی گئی جبکہ پانچ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔

قدرتی آفتوں کا اندازہ لگانے والے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ طوفان کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیس ارب ڈالر تک نقصان ہوسکتا ہے۔