.

شام کے ساتھ مذاکرات کا کوئی جواز نہیں رہا ترک وزیر خارجہ

مذاکرات کا مطلب اسد حکومت کو جائز تسلیم کرنا ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے شام کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ایک ایسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی جواز نہیں رہا جس نے اپنے ہی عوام کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی یہ سلسلہ جاری رکھا ہے''۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے گذشتہ روز مغربی ممالک اور ترکی سمیت علاقائی طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے صدر بشار الاسد اور حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں۔

لاروف نے شام کے لیے عالمی ایلچی الاخضر الابراہیمی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ''اسد حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر بہ مشکل تمام ہی کوئی چیز مکمل ہو گی''۔

لیکن ترک وزیر خارجہ نے ان کی اس تجویز یا رائے سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ''دمشق حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مطلب اس کو جائز تسلیم کرنا ہو گا جبکہ ملک میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ہم گذشتہ کئی مہینے تک شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے رہے ہیں اور اس ضمن میں اس کو سخت پیغامات بھی دیے گئے۔ہم اب بھی ایسا کر رہے ہیں لیکن اس کے لیے سب سے پہلے شامی حکومت کو خود اپنے ہی لوگوں کے ساتھ امن کا مظاہرہ کرنا ہو گا''۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں اگر خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو پھر ان مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ انھوں نے شام میں عبوری دور کے لیے سیاسی عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس میں ان لوگوں کا کردار ہونا چاہیے جو شامی عوام کے خلاف خونریزی میں ملوث نہیں ہیں۔

احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ ترکی صدر بشار الاسد کے اتحادی ممالک روس اور ایران کے علاوہ مصر اور سعودی عرب کے ساتھ بھی شامی بحران کے حل کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھے گا اور ان تمام فریقوں کو شامی حکومت پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ وہ عوام کا قتل عام بند کرے۔ ترکی کے علاوہ مصر اور سعودی عرب شامی صدر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں مگر وہ یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔