.

لیبیا وزیر اعظم علی زیدان کی تیس رکنی کابینہ کا اعلان

وزراء کی فہرست منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان نے تیس ارکان پر مشتمل اپنی کابینہ کی فہرست منظوری کے لیے قومی اسمبلی (جنرل نیشنل کانگریس ) میں پیش کر دی ہے۔

علی زیدان نے منگل کو جنرل نیشل کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''انھوں نے تمام اہم سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔ اس میں لبرل نیشنل فورسز الائنس اور اسلامی جماعت عدل اور تعمیر پارٹی کے وزراء شامل ہیں جبکہ اہم وزارتیں آزاد ارکان کو دی گئی ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ نئی کابینہ میں ستائیس وزراء اور تین نائب وزرائے اعظم شامل ہیں اور اس میں آزاد ارکان کو خارجہ امور، بین الاقوامی تعاون ،خزانہ، انصاف ،داخلہ اور دفاع کی وزارتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

علی زیدان نے اپنی کابینہ میں امریکا میں لیبیا کے سابق سفیر علی عوج علی کو وزیر خارجہ، فضائیہ کے سابق پائیلٹ محمد البرغاثی کو وزیر دفاع اور مشرقی شہر بن غازی سے تعلق رکھنے والے الشعور شوائل کو وزیر داخلہ نامزد کیا ہے۔ محمد البرغاثی نے گذشتہ سال سابق مقتول صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح عوامی بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سابق مقتول صدر معمر قذافی کے دیرینہ حریف علی زیدان کو چودہ اکتوبر کو لیبیا کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔ انھیں صدر محمد المقریف نے دوہفتے میں اپنی کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔

لیبیا کی منتخب دوسو ارکان پر مشتمل اسمبلی وزیراعظم علی زیدان کی پیش کردہ کابینہ کی فہرست پر منگل سے غور شروع کررہی ہے۔ان کے پیش رو سابق وزیرا۷عظم مصطفیٰ ابوشقور کواسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد برطرف کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ علی زیدان سابق کیرئیر سفارت کار رہے تھے لیکن انھوں نے 1980ء میں سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کا طوق ملازمت اتار پھینکا تھا۔وہ اس وقت بھارت میں لیبیا کے سفارت خانے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔منحرف ہونے کے بعد وہ تین عشرے تک جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے۔

وہ ماضی میں حزب اختلاف کی جماعت قومی محاذ آزادی لیبیا کے رکن رہےتھے۔ یہ جماعت 1981ء میں قذافی مخالفین نے بیرون ملک قائم کی تھی۔ علی زیدان اس کے بعد جنیوا چلے گئے تھے جہاں وہ لیبیا میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہے تھے۔