.

ایران فی الوقت جوہری بم نہیں بنا رہا ایہود براک

8 سے 10 ماہ کے لیے جوہری بم کی تیاری پر کام موخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی وزیر دفاع ایہود براک کا کہنا ہے کہ ایران نے فی الحال جوہری بم کی تیاری پر عارضی طور پر کام روک دیا ہے اور وہ اپنی اوسط درجے کی افزودہ یورینیم کو سول استعمال میں لے آیا ہے۔

انھوں نے لندن کے دورے کے موقع برطانوی روزنامے ڈیلی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایران نے اگر اگست میں اپنے جوہری ایندھن کو کسی اور جگہ استعمال نہ کیا ہوتا تو اسرائیل کا اس کے جوہری پروگرام سے متعلق فیصلہ کوئی اور ہوتا''۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے آٹھ سے دس ماہ کے لیے جوہری بم کی تیاری پر کام موخر کر دیا ہے۔ ان کے بہ قول ایران نے بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کی ایک سو نواسی کلو گرام مقدار اکٹھی کر لی تھی لیکن اس میں سے اڑتیس فی صد کو سویلین ریسرچ ری ایکٹر کے لیے فیول راڈز میں تبدیل کر لیا ہے۔

ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایہود براک کا کہنا ہے کہ ایران کے اس فیصلے کی تین وجوہ ہو سکتی ہیں: ایک، اسرائیل یا امریکا کے ممکنہ آپریشن سے متعلق عوامی گفتگو کا رُخ موڑنا۔ دوسرا، یہ فیصلہ ایک سفارتی حربہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ وقت حاصل کرنے کے لیے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل اس ایشو کو ختم ہونے سے روکا جا سکے۔ اس کے ذریعے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو یہ بھی باور کرایا جا سکتا ہے کہ ''ہم تو اپنے عالمی تقاضے پورے کر رہے ہیں''۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس کافی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے اور وہ اس کو اعلیٰ درجے کی یورینیم میں تبدیل کرکے متعدد جوہری بم تیار کر سکتا ہے لیکن اگر وہ جوہری میزائل تیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اس سے ابھی چند سال دور ہے۔

مغربی سفارت کاروں کے مطابق ایران نے بظاہر فردو کے مقام پر واقع زیر زمین جوہری تنصیب میں سینٹری فیوجز کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا ہے اور وہ وہاں جوہری بم کے لیے درکار یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

اسرائیل اور اس کے ہم نوا مغربی ممالک ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیل ایک جوہری ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے،اسی لیے وہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے یک طرفہ جنگ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے لیکن اس کا پشتی بان امریکا اس کو ایران پر تن تنہا حملہ کرنے سے باز رکھنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے یورینیم کو ستر فی صد تک افزودہ کر لیا ہے اور اب اس یورینیم کو نوے فی صد کی سطح تک افزودہ کرنے سے روکا جانا چاہیے تاکہ وہ جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار ایندھن کا ذخیرہ نہ کر سکے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت سے صرف چھے، سات ماہ دور رہ گیا ہے اور وہ آیندہ سال کے وسط تک ایک جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جمع کر لے گا''۔

انھوں نے امریکا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنے کے لیے کوئی حدود متعین کرے تاکہ اگر وہ ان کو عبور کرتا ہے تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی لیکن امریکی صدر براک اوباما اسرائیلی وزیراعظم کا یہ موقف مسترد کرچکے ہیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ ''ایران کو جوہری بم کے حصول سے پُرامن طور پر باز رکھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس کو واضح سرخ لکیر دی جائے۔ اس سے جنگ کی راہ ہموار نہیں ہو گی بلکہ یہ جنگ کو روکے گی''۔