.

تیونس سیکیورٹی فورسسز سے جھڑپ میں سلفی جہادی کارکن جاں بحق

نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد تھانوں کی سیکیورٹی ہائی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں پولیس اور سلفی پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں ایک سیاسی کارکن جان بحق جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دارلحکومت تیونس میں خونریز تصادم سلفی پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے بدھ کے روز نیشل گارڈز کے دو تھانوں پر حملوں کے بعد ہوا۔ رپورٹ کے مطابق منگل کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نیشنل گارڈز کے افسر پر حملے کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا تھا۔

امسال 14 ستمبر کو امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد تیونس میں حالیہ جھڑپیں سب سے زیادہ پرتشدد تھیں۔

ادھر تیونس وزارت داخلہ کے ترجمان خالد طروش نے بتایا کہ سلفی پارٹی کا ایک کارکن گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ ملہوک نیشنل گارڈز کے دو تھانوں پر گزشتہ روز حملہ کرنے والے سیاسی کارکنوں میں شامل تھا۔ خالد طروش کے بہ قول حملہ اۡور سیاسی کارکنوں سے تھانے کو بچانے کے لئے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ ہفتے کے روز ایک مشتبہ سلفی کارکن نے نیشنل گارڈز کے اعلی عہدیدار میجر وسام بن سلیمان پر کسی تیز دھار آلے سے سر پر ضرب لگائی تھی، جسے بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد دارلحکومت کے نواح میں نیشنل گارڈز کے دو تھانوں پر انتہاء پسند دینی جماعت کے کارکنوں نے دھاوا بول دیا۔

حزب اختلاف کا الزام ہے کہ حکمران نہضت الاسلامی جہادی سلفیوں کے ساتھ تساہل کا معاملہ روا رکھے ہوئے ہے۔

چودہ ستمبر کو امریکی سفارتخانے پر سلفی کارکنوں کے حملے کے بعد حکام نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ تشدد میں ملوث سلفی کارکنوں کے خلاف اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔

اس واقعے میں ملوث ہونے کے شہبے میں ایک سو سلفیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ امریکی سفارتخانے پر حملہ دراصل انٹرنیٹ پر نبی آخر الزمان کے بارے میں گستاخانہ فلم کے اجراء کا ردعمل تھا، تاہم تیونس سفارتخانے پر حملے کا ماسٹر مائینڈ ابو عیاض تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔