.

سینڈی طوفان سے 101 افراد ہلاک، 82 ملین بجلی سے محروم

نیویارک، نیوجرسی ہوائی اڈوں سے پروازوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے والے سمندری طوفان سینڈی کے باعث 101 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ مواصلاتی نظام مفلوج اور بجلی کا نظام درہم برہم ہونے سے 17 ریاستوں میں بیاسی لاکھ سے زائد لوگ بجلی سے محروم ہو گئے۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں آنے والے اس تباہ کن اور ہولناک طوفان کے باعث امریکا کے سب سے گنجان آباد مشرقی حصے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، تاہم نقصانات کا صحیح طور پر اندازا لگانا ابھی باقی ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں بیس لاکھ لوگ بجلی سے محروم ہو گئے جہاں مین ہیٹن کے نشیبی علاقوں کی سڑکیں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں اور بروک لِن تک سات زیر زمین ریلوے اسٹیشن پانی سے بھر گئے۔

نیویارک اسٹاک ایکسچینج دوسرے روز بھی بند رہا جبکہ اس سے قبل 1888ء میں طوفانی جھکڑوں کے باعث ایسا ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے پچاس لاکھ باسیوں کے لیے روز مرہ زندگی کو لوازمہ سمجھے جانے والے زیر زمین ریلوے کے نظام کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک دورے کے دوران نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے کہا کہ ٹرینوں کی آمد و رفت بحال ہونے میں چار سے پانچ دن لگ سکتے ہیں۔’’قدرت ہم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔‘‘ نیویارک سمیت اردگرد کے علاقوں میں بجلی کی بحالی میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

امریکا کے مشرقی ساحلی خطے میں ہوائی اڈے بدستور بند اور پروازیں منسوخ ہونے کے باعث ہزاروں افراد منزلوں پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ تاہم مسافروں کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ اور نیو جرسی میں نیو ورک انٹرنیشنل ائرپورٹ پر آج محدود سروس بحال کرنے کی خوشخبری دی گئی ہے۔

نقصانات کا تخمینہ لگانے والی ایک کمپنی نے طوفان کے باعث تقریباً تیس ارب ڈالر نقصانات کی پیش گوئی کی ہے۔