.

موریتانوی خواتین میں گورے پن کی خاطر اینمل فیڈ اور گرم مصالحوں کا استعمال

'ایسی چیزوں کا استعمال مضر صحت ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
موریتانیہ میں خواتین رنگ گورا کرنے کے لئے قدرتی اشیاء اور ادویہ کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ وقتی فائدے میں مگن موریتانوی خواتین ان اشیاء کے لانگ ٹرم مضمر اثرات سے قطعی طور پر بے بہرہ ہیں جس کی وجہ سے جانوروں کے چارے سے لیکر گرم مصالحوں سے بنی کریموں کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

موریتانیہ کے مخصوص گرم مرطوب موسمی حالات اور افریقی نسل کے اثرات کے باعث موریتانیہ میں خواتین کے لئے سفید کھلی رنگت ایک خواب ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لئے موریتانوی خواتین ہر حد تک جانا چاہتی ہیں، چاہے انہیں وقتی فائدے کے لئے اپنی لانگ ٹرم صحت کی قربانی دینا پڑے۔

رنگ گورا کرنے کے لئے خواتین کم خرچ بالا نشین کے مصداق دیسی ٹوٹکوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ مہنگی ولایتی کریموں کے مقابلے میں دیسی اور گھریلو طور پر تیارکردہ کریموں میں استعمال ہونے والے اجزاء مارکیٹ سے بآسانی مل جاتے ہیں۔ ان کریموں میں اونٹ کے دودھ، چارے اور گرم مصالحوں تک کا استعمال کیا جاتا ہے، جو جمالیات کے ماہرین کے بہ قول انسانی جلد اور صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں۔ نیز کھلی رنگت کی خواہمشند خواتین ملک کی گرم آب و ہوا کے علی الرغم گھر سے باہر نکلتے وقت دستانوں اور ماسک کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔

رنگ گورا کرنے کی شوقین موریتانوی دوشیزہ مریم الناجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ کھلی رنگت ہو تو آپ کو نت نئے فیشن کے کپڑے پہنے بھی سجتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلی رنگت والی خواتین کو ہی موریتانوی مرد زیادہ پسند کرتے ہیں۔

"ہم مہنگے میک اپ سے وقتی طور پر وہ خوبصورتی حاصل نہیں کر پاتیں جو دیسی طریقے سے بنی ہوئی رنگ گورا کرنے والی کریموں سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا میری بہت سی ہم جولیاں مراکشی حمام جا کر بھی اپنی رنگت میں نکھار لانے کے لئے کوشاں ہیں، جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔"