.

میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے اقوام متحدہ

عالمی معیار کے مطابق مسلمانوں کو شہری حقوق دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تحقیق کاروں نے میانمار سے مسلمانوں اور بدھ متوں کے درمیان خونریز فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے اور اس کو خبردار کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کے لیے حالیہ تنازعے کو جواز کے طور پر استعمال نہ کرے۔

اقوام متحدہ کے میانمار کے لیے خصوصی نمائندہ طماس اوجیا قوینتانا اور اقلیتی امور سے متعلق آزاد ماہرین نے بدھ کو جنیوا میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''اس صورت حال کو ''ناپسندیدہ کمیونٹی'' کو مستقل بنیاد پرختم کرنے کے لیے موقع کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے''۔

انھوں نے میانمار کی حکومت اور دوسروں کے ان بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں ان کا کہنا ہے کہ ''روہنگیا مسلمان غیر قانونی تارکین وطن اور بے ریاست باشندے ہیں''۔

اوجیا قوینتانا کا کہنا ہے کہ ''اگر یہ ملک (میانمار) جمہوری تبدیلی کے عمل میں کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے انسانی حقوق سے متعلق موجودہ چیلنجز سے نمٹنا ہو گا۔ ریاست اراکان (راکھیں) سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کی ضرورت ہے جو ان سے ایک طویل عرصے سے مقامی اور قومی حکومت اور معاشرے کی سطح پر روا رکھا جا رہا ہے''۔

واضح رہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر گذشتہ دس روز سے بدھ مت انتہا پسندوں کے حملے جاری ہیں۔ بدھ متوں کو میانمار کی سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہے اور وہ مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ان کے مکانوں اور دیگر املاک کو نذرآتش کررہے ہیں۔

میانمار کی مغربی ریاست اراکان میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر حالیہ خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں اٹھائیس ہزار ایک سو آٹھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور ان میں ستانوے فی صد سے زیادہ روہنگیا مسلمان ہیں۔وہ اب جون میں بے گھر ہونے والے پچھہتر ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اقلیتی امور کی ایک آزاد ماہرہ ریٹا اضساک کا کہنا ہے کہ ''روہنگیا مسلمانوں کا اقلیتوں کے بین الاقوامی معیار کے مطابق تحفظ کیا جانا چاہیے۔میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو برابری کی بنیاد پر شہری حقوق دینے کے لیے اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور مختلف کمیونٹیوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کو فروغ دینا چاہیے''۔

میانمار میں بدھ متوں اور مسلمانوں کے درمیان نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں مکانوں کو نذرآتش کر دیا گیا ہے۔ اراکان کے سرکاری ترجمان وین مائینگ نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں روہنگیا مسلمانوں اور بدھ متوں میں جھڑپوں میں دونوں طرف سے اکاون مردوں اور اکسٹھ خواتین کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے جمعہ کو برمی دارالحکومت ینگون سے جاری کردہ ایک بیان میں انتہا پسندوں کے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔امریکا نے بھی میانمار میں مسلمانوں اور انتہا پسند بدھ متوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے وقعات کی مذمت کی تھی۔

یاد رہے کہ ریاست اراکان سے تعلق رکھنے والے آٹھ لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو گذشتہ کئی عشروں سے برما کی فوجی حکومت کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان سے جائیدادوں کی ملکیت کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ انھیں بنیادی شہری اور انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

برمی حکومت کی ان ظالمانہ کارروائیوں اور مسلم کش اقدامات کی وجہ سے روہنگیا مسلمان اپنے ہی ملک میں بے ریاست شہری ہو کر رہ گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے بہ قول وہ اس وقت دنیا کی سب سے مقہور و مظلوم اقلیت ہیں جن کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ بدھ مت انھیں سرے سے ملک کا شہری ہی تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ روہنگیا کے آباء واجداد پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے نقل مکانی کر کے میانمار میں آبسے تھے،اس لیے اب وہ واپس چلے جائیں لیکن بنگلہ دیش اور روہنگیا مسلمان ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا تاریخی حقائق پر مبنی موقف ہے کہ وہ اس ملک کے قدیمی باشندے ہیں۔