.

ایران جیل حکام کا ناروا سلوک، 9 خواتین قیدیوں کی بھوک ہڑتال

جسمانی تلاشی سمیت توہین آمیز سلوک بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کی ایک مرکزی جیل میں قید نو [9] سیاسی خواتین نے حکام کے ناروا سلوک اور جسمانی تلاش کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کر دی ہے۔

ایرانی حزب اختلاف کی ایک ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق خواتین قیدیوں نے تہران کے شمال میں واقع ایوین جیل میں اپنی ہم صنف جیل محافظات کی جانب سے غیر علانیہ معائنے، جسمانی تلاشی، گالم گلوچ اور تشدد کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان قیدیوں میں زیادہ تر سیاسی کارکنان اور صحافیات شامل ہیں۔ انھیں 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاج کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان انتخابات پر دھاندلیوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے اور ان میں صدر محمود احمدی نژاد دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔

بھوک ہڑتال کرنے والی خواتین قیدیوں نے جیل حکام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ ضمانت طلب کی ہے کہ جیل محافظات مستقبل میں ان سے اس طرح کی حرکتیں نہیں کریں گی۔

تہران کی اسی جیل میں قید انسانی حقوق کی عالمی شہرت یافتہ علمبردار نسرین ستودہ نے گذشتہ ہفتے سے جیل حکام کے ناروا سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال کر رکھی ہے اور وہ کچھ بھی کھا نہیں رہی ہیں۔ جیل حکام نے ستودہ کے خاوند اور بچوں پر ان سے ملنے پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔

نسرین ستودہ کو سال 2010ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں ایک عدالت نے سکیورٹی سے متعلق الزامات کے جرم میں چھے سال قید کی سزا سنائی تھی۔ برطانیہ کے مشرق وسطیٰ سے متعلق امور کے وزیر ایلسٹئیر برٹ نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ان کے کیس پر نظر ثانی کریں۔

ایران نے گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے نسرین ستودہ اور معروف فلم ساز جعفر پناہی سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد یورپی یونین کے ایک وفد نے اپنا تہران کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ یورپی پارلیمان نے ان دونوں کے لیے اکتوبر کو سخاروف انعام برائے آزادی اظہار دینے کا اعلان کیا تھا۔ جعفر پناہی بھی ایرانی حکومت پر تنقید کے جرم میں چھے سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔