.

ایران کا تیل بردار بحری بیڑا ہیلاری شام کے پُر اسرار مشن پر

دمشق اور تہران میں پٹرول اور ڈیزل کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران اور شام پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں نے قدرتی تیل کی دولت سے مالا مال ان ملکوں کو خود ایندھن کے شعبے میں بھی سخت مشکل سے دوچار کیا ہے جس کے بعد دونوں حلیف ممالک نے ایندھن کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے سے ایندھن کا تبادلہ شروع کر دیا ہے۔ العربیہ نیوز چینل نے جمعرات کے روز ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے پٹرول کے حصول لیے حال ہی میں دمشق کو ڈیزل فراہم کیا ہے۔



شپنگ ذرائع کے مطابق حال ہی میں ایران کا 'ہیلاری' بحری بیڑا تیل کی بھاری مقدار لے کر شام پہنچا ہے اور اسی مقدار میں شام سے بھی واپسی پر ایران کے لیے ایندھن لایا گیا ہے۔



ذرائع کے مطابق ایران کا یہ بحری جہاز پچھلے ہفتے شام کی آبنائے بانیاس میں لنگر انداز ہوا جس پر 34 ہزار 500 ٹن ڈیزل لادا گیا تھا۔ آبنائے بانیاس میں ڈیزل اتارنے کے بعد وہیں سے اس پراسی مقدار میں پٹرول لوڈ کیا گیا جسے بعد ازاں تہران لایا گیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیش آئند ایام میں بحری راستے سے ایندھن کی اقسام کی درآمدات و برآمدات میں مزید اضافہ بھی کریں گے۔



خیال رہے کہ ایران اور شام دونوں تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باجود خود بھی ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کے تسلسل کے باعث تہران حکومت اور فوج جبکہ شام میں عوامی انقلاب کی تحریک کچلنے پر صدر بشار الاسد کی حکومت کو سخت نوعیت کی عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

ایران خام تیل میں ڈیزل کی بھاری مقدار پیدا کرتا ہے لیکن اسے پٹرول کی قلت رہتی ہے جبکہ شام کو پٹرول کے بجائے ڈیزل کی زیادہ ضرورت ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ایندھن کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے کا سہارا بن رہے ہیں۔