.

تیونس میں سلفیوں سے حکومتی تصادم، ایمرجنسی میں 3 ماہ کی توسیع

سیکیورٹی اداروں نے حکومت سے توسیع کا مطالبہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تیونس میں نافذ ہنگامی حالت میں مزید تین مہینوں کے لئے توسیع کر دی گئی ہے۔ تیونس سے ایمرجنسی کے خاتمے کے لئے جنوری 2013 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی اور فوجی قیادت کی عبوری صدر اور دستور ساز اسمبلی کے چیئرمین سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

ہنگامی حالت میں توسیع کا فیصلہ دراصل تیونس میں سفلیوں اور حکومت کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے نئے واقعات سامنے آنے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان خالد طروش نے بدھ کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ حکومت انتہا پسندوں کے حملے روکنے کے لئے قانون میں دیئے گئے تمام اختیارات کو بروئے کار لائے گی۔

انہوں نے اس بیان کے ذریعے بالواسطہ طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ سلفیوں کے قانون نافذ کرنے والوں اہلکاروں سے تصادم کی صورت میں حکومت براہ راست گولی چلانے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

ادھر سیکیورٹی فورسسز کی نمائندہ انجمنوں نے انتہا اسلام پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مزید وسائل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے یاد رہے کہ اکتوبر میں اسلام پسند حکمران جماعت کے حلیف اور سیکولر صدر المنصف المرزوقی نے ملک میں چھوٹے سلفی گروہوں کو خطے کے لئے 'بڑا خطرا' قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کی تعداد تین ہزار سے زائد نہیں ہے۔