.

ایرانی صدر نے ہتھیار ڈال دیے، مقتدر قوتوں سے محاذ آرائی سے گریزاں

سپریم لیڈر کے نام خط میں مغربی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سمیت مقتدر قوتوں کے ساتھ محاذ آرائی نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس انتباہ کے بعد اقتدار کے لیے پنجہ آزمائی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ آیندہ صدارتی انتخابات سے قبل اس طرح کی محاذ آرائی غداری کے زمرے میں آتی ہے۔

ایرانی صدر نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے مغرب کی عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے مقابلے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔یہ خط ان کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

سپریم لیڈر کے انتباہ کے بعد ایرانی صدر نے ان کے نام خط میں لکھا کہ ''حکومت آپ کے نوٹس کا بھرپور خیر مقدم کرتی ہے اور داخلی لڑائیوں اور تنازعات میں الجھے گی نہیں اور غیر شائستہ طرز عمل سے پہلے کی طرح صبر و تحمل اور رواداری سے نمٹے گی''۔

انھوں نے لکھا کہ ''قوم اور ملک دشمن کے منصوبے کے نتیجے میں دباؤ میں ہے۔ میرے ساتھی اور میں چوبیس گھنٹے اپنی توانائیاں معاملات کو سدھارنے، سازشوں کا مقابلہ کرنے اور عوام پر معاشی پابندیوں کا بوجھ ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں''۔ انھوں نے مزید لکھا کہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ''تمام ستونوں کے کردار، ان کے احساس ذمے داری اور حکومت سے تعاون کی ضرورت ہے''۔

واضح رہے کہ محمود احمدی نژاد نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد خود ہی سپریم لیڈر سے اختیارات کی جنگ شروع کی تھی لیکن وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے سخت موقف سے پیچھے ہٹتے گئے ہیں اور وہ ماضی میں متعدد مواقع پر اپنے اقدامات سے دستبردار ہو چکے ہیں۔

ایرانی صدر نے گذشتہ ہفتے عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاری جانی سے تہران کی ایوین جیل کے دورے کی اجازت طلب کی تھی لیکن انھوں نے صدر کی درخواست مسترد کر دی تھی۔اس جیل میں ان کے پریس سیکرٹری علی اکبر جوان فکر قید ہیں۔

انھوں نے عدلیہ کے سربراہ پر غیر آئینی رویہ اپنانے کا الزام عاید کیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے صدر کی حیثیت میں انھیں ایوین جیل کے دورے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں لیکن صادق لاری جانی نے ان کے اس بیان پر اپنے ردعمل اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''احمدی نژاد اپنے آئینی اختیارات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے''۔احمدی نژاد کے اعلیٰ عدلیہ کے خلاف بیان پر علی خامنہ ای نے دبے لفظوں میں تنقید کی تھی۔