.

تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی سالگرہ پر مظاہرہ

امریکی پرچم نذر آتش،''مَرگ بَر امریکا'' کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد نے امریکی سفارت خانے پر قبضے کی تینتیسویں سالگرہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے اس دوران امریکی پرچم نذر آتش کرنے کے علاوہ ''مرگ بر امریکا'' کے نعرے لگائے ہیں۔

ایرانیوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے کی سابقہ جگہ کے سامنے جمع ہو کر دنیا کی واحد سپر طاقت کے خلاف اپنے غیظ وغضب کا اظہار کیا۔ انھوں نے برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔

نیم فوجی دستوں پر مشتمل باسیج ملیشیا کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل محمد رضا ناقدی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران مغرب کی عاید کردہ پابندیوں کا ''مزاحمت کی معیشت'' کے ذریعے مقابلہ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ''جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران سے سمجھوتے کی صورت میں ان پابندیوں میں نرمی ہو سکتی ہے تو انھیں جان لینیا چاہیے کہ یہ ایک بڑا جھوٹ اور دھوکا ہے''۔

باسیج ملیشیا کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا میں سب سے بڑا مجرم ملک ہے اور یہ بات ثابت کرنے والے محققین اور مورخین کو ہم نے دس کلو گرام سونا بطور انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ایرانیوں نے امریکا میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے صرف چار روز قبل تہران میں یہ احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ صدر براک اوباما کے مدمقابل ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار میٹ رومنی نے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی خارجہ پالیسی کا سرفہرست ایشو قرار دے رکھا ہے اور انھوں نے صدر اوباما کے ساتھ ایک مباحثے کے دوران کہا تھا کہ ''اس وقت دنیا کو ایک جوہری ایران سے سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے''۔

یاد رہے کہ ایران میں تینتیس برس قبل برپا شدہ انقلاب کے چند ماہ کے بعد 4 نومبر 1979ء کو مشتعل طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے باون امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور انھیں چار سو چوالیس روز تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس واقعہ کے فوری بعد ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے اور تب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔