تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی سالگرہ پر مظاہرہ

امریکی پرچم نذر آتش،''مَرگ بَر امریکا'' کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read
Advertisement
باسیج ملیشیا کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا میں سب سے بڑا مجرم ملک ہے اور یہ بات ثابت کرنے والے محققین اور مورخین کو ہم نے دس کلو گرام سونا بطور انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ایرانیوں نے امریکا میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے صرف چار روز قبل تہران میں یہ احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ صدر براک اوباما کے مدمقابل ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار میٹ رومنی نے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی خارجہ پالیسی کا سرفہرست ایشو قرار دے رکھا ہے اور انھوں نے صدر اوباما کے ساتھ ایک مباحثے کے دوران کہا تھا کہ ''اس وقت دنیا کو ایک جوہری ایران سے سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے''۔

یاد رہے کہ ایران میں تینتیس برس قبل برپا شدہ انقلاب کے چند ماہ کے بعد 4 نومبر 1979ء کو مشتعل طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے باون امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور انھیں چار سو چوالیس روز تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس واقعہ کے فوری بعد ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے اور تب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں