.

تیونس میں سیکیورٹی اہلکاروں کا اپنے تحفظ کے حق میں مظاہرہ

انتہا پسندوں کے پیٹی بھائیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں سلفی مسلک کے انتہا پسند پیروکاروں اور سیکیورٹی حکام کے درمیان طویل چشمک کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اپنی حفاظت کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

تیونس میں وزارت داخلہ کے دفتر کے باہر نیشنل سیکیورٹی فورسز، ایوان صدر کی ڈیفنس فورس اور پولیس کے سیکڑوں اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر سلفیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سلفیوں کے حملے روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسسز کو ان کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دے۔



العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنی حفاظت کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے سلفیوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں پر بھی حملے کر رہے ہیں۔ ایک ایسے ہی حملے میں بدھ کے روز دوار ھیشر کے مقام پر ایک سینیئر پولیس افسر زخمی ہو گیا تھا جو تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہے۔



خیال رہے کہ رواں منگل کے روز تیونس میں مسلح سلفیوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تھا تاہم حملے سے قبل ہی تمام اراکین پارلیمان وہاں سے بحفاظت نکل گئے تھے۔ سلفیوں کے پارلیمنٹ پر قبضے کے بعد حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے سیکیورٹی حکام کو شدت پسندوں سے سختی سے نمٹنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔



تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت میں توسیع میں متردد تھی لیکن عسکری قیادت نے وزیر اعظم سے ہنگامی حالت کے نفاذ کا پر زور مطالبہ کیا تھا جس کے بعد ہنگامی حالت کی مدت میں توسیع کر دی گئی۔



تیونسی حکومت کے ترجمان خالد طروش کے مطابق انہوں نے سیکیورٹی حکام کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے 'فری ہینڈ' دے دیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اب قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف تمام وسائل کا استعمال کر سکیں گے۔



خیال رہے کہ تیونس میں حکومت اور سلفیوں کے درمیان لڑائی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی پولیس اور سلفیوں کے درمیان خونریز تصادم ہوتے رہے ہیں۔ تیونس میں ایسے انتہا پسدوں کی تعداد تین ہزار بتائی جاتی ہے۔ اکتوبر میں تیونس کے صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی نے اپنے ایک بیان میں سیکولر مکتبہ فکر اور سلفیوں کے حامیوں کو نہ صرف تیونس بلکہ پورے خطے کے لیے 'خطرہ' قرار دیا تھا۔