.

ریاض دھماکے کے زخمیوں کا علاج سرکاری خرچ پر کیا جائے گا

خریص شاہراہ ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے گزشتہ روز مشرقی ریاض میں گیس ٹینکر دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے علاج کی خاطر تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ اس امر کا اظہار سعودی وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے حادثے میں زخمیوں کی عیادت کے موقع پر کیا۔ شاہ عبداللہ نے حادثے میں زخمی ہونے والے تارکین وطن کا علاج سرکاری خرچ پر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کے روز مشرقی ریاض کی مرکزی شاہراہ کے ایک اورپاس سے گیس ٹینکر کی ٹکر سے 23 افراد جان بحق اور تقریباً ایک سو زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹکر کے بعد گیس کنٹینر میں دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بری طرح نقصان پہنچا جبکہ ٹینکر کے پیچھے آنے اور ساتھ سے گزرنے والی درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

شہری دفاع کے ڈائریکٹر سعد بن عبداللہ التویجری نے بتایا کہ ڈرائیور تیزی رفتاری کے باعث ٹینکر پر قابو نہیں پا سکا، جس کے باعث وہ مشرقی ریاض کی مرکزی شاہراہ خریص پر واقع الشیخ جابر کراسنگ پر بنے نیشنل گارڈز برج اور پاس کے برج سے جا ٹکرایا۔

سعد التویجری نے بتایا کہ جانی اور مالی نقصان کا ابھی اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ نیز حادثے کے بعد لاپتا افراد کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن اور جائے حادثہ کی صفائی اور ضروری مرمت کے لئے شہری دفاع اور پولیس نے خریص مرکزی ہائی وے تمام قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دی ہے۔

حادثے کے بعد نیشل گارڈز برج کے اردگرد علاقے میں ایمبولینسز، ہیلی کاپٹرز کے عارضی لینڈنگ پیڈ بنا دیئے گئے تھے جہاں سے امدادی کارکن زخمیوں کو فوری طور پر جائے حادثہ سے ایک کلومیٹر دور نینشل گارڈز ہسپتال منتقل کرتے رہے۔

ٹینکر کی ٹکر سے ہونے والے دھماکے سے 'الزاھد' کمپنی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس کاروباری مرکز کے ساٹھ رکنی عملے میں سے دس افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔