.

مصر میں مذہبی پولیس گردی؛ شہریوں کے اعضاء کاٹنے کا حکم

توہین مذہب کے الزام کے تحت 'حد' نافذ کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں مذہبی پولیس [امر بالمعروف و نہی عن المنکر] کے اہلکاروں نے اپنے اہلکاروں اور مذہب کی توہین کی پاداش میں دو سگے بھائیوں میں ایک کی زبان جبکہ دوسرے کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی مصر کے شہر سویز میں الاربعین کے مقام پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے دو مصری سگے بھائیوں کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہو کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ مجروحین نے شدت پسندوں کے بغیر اجازت گھر میں داخل ہونے پر احتجاج کیا تو اس پر انہیں مذہب اور علماء کی توہین کے الزام کے سزا دینے کی کوشش کی گئی، تاہم اہل محلہ کے موقع پر پہنچنے کے باعث متشدد عناصر اپنی کارروائی میں ناکام رہے۔



سویز کے متاثرہ ایک شہری احمد غریب محمد نے بتایا کہ وہ اپنی رہائش گاہ کے ٹوائلٹ میں تھا کہ اچانک ایک باریش شخص اندر گھس آیا۔ اس پر بغیر اجازت اندر آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ "ہم کسی سے اجازت نہیں لیا کرتے"۔ اس پر دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے کچھ ہی دیرکے بعد تقریبا 30 شدت پسند گھر میں داخل ہوئے۔ ان سب نے ایک ساتھ احمد غریب پر بہیمانہ تشدد کیا۔ شور شرابہ ہونے پر کچھ راہ گیر اور اہل محلہ وہاں پر جمع ہو گئے اور انہوں نے شدت پسندوں سے احمد کی جان چھڑائی، تاہم شدت پسندوں کے حملے میں اس کے ہاتھ کی رگیں کٹ چکی ہیں اور ایک گہرا زخم لگا۔ ہاتھ کے علاوہ سر اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی تیز دھار آلے کے زخم آئے ہیں۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ابھی مقامی شہریوں اور رہ گیروں کی شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت جاری تھی کہ مجروح کا بھائی بھی موقع پر پہنچ گیا۔ اس نے بھی بغیر اجازت اندر آنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تو شدت پسندوں نے علی الاعلان دونوں بھائیوں کو توہین اسلام کا مرتکب اور اپنے امیر کا گستاخ قرار دیتے ہوئے ان پر حد جاری کر دی۔ شدت پسند تنظیم کے ارکان نے ایک بھائی کو زبان درازی پر اس کی زبان کاٹنے اور دوسرے کا ہاتھ کاٹنے کی سزا کا حکم سنایا۔ اگر مقامی شہری مداخلت کر کے بیچ بچاؤ نہ کرتے تو دونوں بھائیوں کی جانیں خطرے میں پڑنے کا اندیشہ تھا۔



شہریوں کے ھجوم کے باعث شدت پسند اپنے مقصد میں تو کامیاب نہ ہو سکے لیکن وہ اس کے باوجود دونوں بھائیوں کو اغواء کرنے کے لیے دیر تک ان کے مکان کے باہر کھڑے رہے۔ اس پران کے والد نے پولیس کو اطلاع دی۔ ایک مقامی سیاسی رہ نما فوزی عبدالفتاح کا کہنا ہے کہ شدت پسند اب بھی دونوں بھائیوں کی تلاش میں ہیں اور ان کی نقل وحرکت کے راستوں کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اغواء کر کے انہیں سنائی جانے والی سزا پر عملدرآمد کرایا جا سکے۔



خیال رہے کہ سویز شہرہی میں اسی طرح کے ایک دوسرے واقعہ میں امر بالمعروف ونہی عن المنکرنامی تنظیم نے اپنے منگیترکے ساتھ راہ چلتے ایک طالب علم کو اس لیے قتل کردیا تھا کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ اس کے محرم کے بغیرکیوں جا رہا ہے۔