.

ایرانی شہر زہدان میں جھڑپیں، چار افراد زخمی

فائرنگ جنداللہ کے کارکنوں نے کی: پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان کے صدر مقام زہدان سے باوثوق ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ تہران مخالف بلوچ تنظیم جنداللہ کے کارکنوں اور ایرانی پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار راہگیر زخمی ہو گئے۔



ذرائع کے مطابق ایرانی پولیس نے موٹر سائیکل پر سوار جنداللہ کے ارکان کو رکنے کا اشارہ کیا تاکہ ان کی شناخت کی جا سکے لیکن موٹر سائیکل پر سوار افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، جس کی زد میں آ کر چار راہگیر زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ کشیدگی کے شکار سیستان بلوچستان صوبے کے مرکزی شہر 'بلوار زاہدان' میں جمعہ کو رات گئے پیش آیا۔ سنی اکثریت آبادی والے اس صوبے میں دھماکے روز مرہ کا معمول ہیں۔

باخبر بلوچ ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ حالیہ کشیدگی گزشتہ ہفتے تین بلوچوں کو پھانسی کے بعد سے شروع ہوئی ہے۔ نیز بلوچوں کے مذہبی شعائر کے خلاف ایرانی حکومت کے اشتعال انگیز اقدامات سے بھی مقامی آبادی نالاں ہے۔

ایرانی حکام 'جنداللہ تنظیم' پر دہشت گردانہ کارروائیوں کا الزام عائد کرتی چلی آ رہی ہے۔ تہران کے حکم پر گزشتہ ہفتے جنداللہ کے تین کارکنوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہ پھانسی اسی صوبے میں تشاہ بہار شہر کی مسجد امام حسین کے قریب خودکش دھماکے کے چند دن بعد دی گئی۔ یہ دھماکا 19 اکتوبر کو ہوا تھا۔

ایران جنداللہ پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کرتی ہے۔ تہران، جنداللہ کی امداد کا الزام اپنے ہمسایہ ملک پاکستان، برطانیہ اور امریکا پر بھی عائد کرتا ہے، جو ایران کے بہ قول، سنی اکثریتی علاقے کو ایران کے جنوب مشرق میں عدم استحکام کے لئے بھی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ تاہم تینوں ملک جنداللہ کے لئے امداد کے ایرانی الزام سے ہمیشہ برئت کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں۔

اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے بتایا کہ مسلح افراد نے بلوار زہدان کی ایک شاہراہ پر فائرنگ کی جس سے چار افراد زخمی ہو گئے، جنہیں علاج کے لئے ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔