.

حوثیوں کی مذہبی تقریبات اور احتجاج، صنعاء فوج کے حوالے

'عید غدیر' پر صنعاء کو تہران کے رنگ میں رنگنے کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن میں علاحدگی پسند حوثی قبائل اٹھارہ ذی الحجہ [آج سے] کو مذہبی دن 'عید غدیر' کی تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے اہم شہروں میں فوج نے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے ہیں۔ حوثیوں کی دھمکی کے بعد دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی کے خصوصی فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔



خیال رہے کہ 'عید غدیر' اہل تشیع کے ہاں مذہبی حوالے سے اہم دن قرار دیا جاتا ہے۔ اس دن ایران سمیت بعض دیگر ملکوں میں بھی خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ یمن میں ایران نواز حوثی بھی اس دن کا خاص طور پر اہتمام کرتے ہیں۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس موقع پر دارالحکومت صنعاء میں امریکی سفارت خانے اور دیگر حساس تنصیبات کے آس پاس سیکیورٹی کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی تھی۔ امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی میں اضافہ حوثی لیڈر عبدالملک حوثی کی اس دھمکی کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ 'یوم غدیر' کے موقع پر امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کریں گے۔ حوثی لیڈر کی جانب سے یہ دھمکی الصعدہ کے علاقے میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ایک کمانڈر پر ڈرون طیارے کے ذریعے کیے گئے حملے کے جواب میں دی گئی تھی جو حال ہی میں کیا گیا تھا۔



حوثیوں کے ذرائع نے بتایا کہ یوم غدیر کے موقع پر دعائیہ تقریبات کے ساتھ ساتھ یمن میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کی جائے گی اور ایک احتجاجی ریلی امریکی سفارت خانے کی جانب بھی مارچ کرے گی۔



ذرائع کے مطابق حوثی لیڈر عبدالملک حوثی اور ان کی جماعت کی جانب سے یوم غدیر کی تقریبات کامیاب بنانے کے لیے اپنے حامیوں میں اسلحہ و گولہ بارود بھی تقسیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اندرون ملک اپنے ہمنوا گروپوں اور بیرون ملک بالخصوص ایرانی حکام کو حوثیوں نے عید غدیر کے موقع پر جذبہ خیر سگالی کے پیغامات بھی ارسال کیے ہیں۔ خیال رہے کہ یمن علاحدگی پسند حوثیوں پر ایران سے مالی اور فوجی شعبوں میں امداد کے حصول کا الزام عائد کرتا چلا آ رہا ہے۔



حوثی ماضی میں خفیہ طریقے سے یوم غدیر کی تقریبات منعقد کرتے رہے ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی مذہبی تقریبات کو نہ صرف علی الاعلان منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ اس موقع پر ایران کی حمایت میں امریکا کی مخالفت میں کھل کر اپنے جذبات کا اظہار، احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں۔

ماضی میں عید غدیر کے موقع پر سیکیورٹی کا کوئی خاص اہتمام بھی نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی پولیس کو ان پر گولی چلانے کی اجازت تھی، لیکن اب کی بار یمنی سیکیورٹی حکام کا بھی کہنا ہے کہ وہ ملک میں مذہبی تقریبات کی آڑ میں کسی کو تخریب کاری اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی تو تخریب کاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔