.

اعلان بالفور کے 95 سال مکمل، برطانیہ پر فلسطینیوں سے معافی کے لیے دباؤ

یورپی اور فلسطینی کارکنوں کی مساعی کا نتیجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے لیے برطانوی سامراج کے 'اعلان بالفور' کو تقریباً ایک صدی مکمل ہونے کو ہے لیکن برطانیہ آج بھی اس تاریخی غلطی کے سخت ترین ردعمل کا سامنا کر رہا ہے۔ دو نومبر1917ء کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بلفور نے اس اعلان پر دستخط کئے۔ فلسطینی اور یورپی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اعلان بلفور کے 95 برس مکمل ہونے پر ایک تازہ مہم شروع کی ہے، جس میں برطانوی حکومت سے فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کے معاہدے پر معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔



خیال رہے کہ اعلان بالفور فلسطین پر قبضے کے دوران اس وقت کی برطانوی حکومت کی یہودیوں کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کی توثیق تھی جس کا تعلق پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کی تقسیم سے تھا۔ بعد میں یہ معاہدہ منظر عام پر آ گیا۔ اس اعلان کی علامت برطانوی دفتر خارجہ کے ایک خط کو سمجھا جاتا ہے جو دو نومبر1917ء کو وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور نے صہیونیوں کے نام لکھا تھا۔ اس خط میں برطانیہ نے صہیونیوں کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ سر زمین فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام میں ان کی بھرپور اور عملی مدد کریں گے۔ اسی اعلان کے تحت بعد ازاں دنیا بھر کے یہودیوں کی فلسطین منتقلی شروع ہوئی اور سنہ 1948ء میں عالم اسلام کے قلب میں صہیونی ریاست قائم کی گئی۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اعلان بالفور کی سالگرہ کے موقع پر انسانی حقوق کی فلسطینی اور غیر ملکی تنظیموں نے ایک ملین لوگوں کے دستخط جمع کرنے کی مہم بھی شروع کی ہے۔ مہم کی روح رواں تنظیموں کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ برطانوی حکومت سے فلسطینیوں سے معافی منگوانے کے لیے عدالت میں ایک دعویٰ بھی دائر کریں گے، تاہم فلسطینی پناہ گزینوں کے امور کے محققین اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ لندن کےخلاف اعلان بالفور کے حوالے سے عجلت میں کسی عدالتی کارروائی کے تحریک فلسطین پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات کی تیاری کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور بغیر تیاری کے کوئی بھی عدالتی کارروائی برطانیہ میں فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت پر منفی اثرات ڈالے گی۔



فلسطینی پناہ گزینوں کے امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان ابو ستۃ نے'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے خلاف کوئی بھی عدالتی چارہ جوئی تو ممکن ہے لیکن اس میں کامیابی کا فوری امکان کم ہو گا۔ ماضی میں اس طرح کی عدالتی کارروائیاں بے نتیجہ رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ایک ملین لوگوں کے دستخط حاصل کرنے کی مہم کو سراہا اور اسے درست سمت میں پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک ملین لوگ برطانیہ سے اعلان بالفور جاری کرنے پر فلسطینیوں سے معافی کا مطالبہ کریں تو اس کا برطانیہ پر اچھا اثر پڑے گا۔ ممکن ہے برطانیہ فلسطینیوں سے معذرت خواہی پر مجبور ہو جائے۔



ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ابو ستۃ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا فلسطینیوں سے اعلان بالفور پر معافی مانگنے کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے سنہ 1917ء میں کی گئی غلطی کو 'انسانی جرم' کے طور پر تسلیم کیا ہے، جس کے بعد اسرائیل کی ہر قسم کی امداد روکنا اس کے لیے لازم ہو جائے گا۔



ڈاکٹر سلمان ابو ستۃ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں سے معافی کے حوالے سے برطانیہ سے ہمارا مطالبہ محض دو الفاظ میں میں معذرت نہیں بلکہ فلسطین کے بارے میں پوری پالیسی اور نصاب تعلیم میں شامل غلط مضامین کی تبدیلی بھی شامل ہے۔ فلسطینیوں سے معافی آخری نہیں بلکہ پہلا قدم ہو گا۔ اگلے مرحلے میں ہم برطانیہ سے نصاب تعلیم میں فلسطین کی تاریخ جدید کے حوالے سے غلط مواد ہٹانے، برطانیہ کی تمام تنظیموں کو فلسطینیوں کی بھرپور مدد کرنے کی اجازت دینے اور اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کے مطالبات شامل ہوں گے۔



ادھر برطانیہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کے لیے سرگرم 'مرکز برائے حق واپسی' کی جانب سے جاری ایک بیان کی نقل بھی العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور فلسطین کی کئی تنظیموں نے مشترکہ طور پر'برطانیہ کا فلسطینیوں سے معافی مانگنے کا وقت آ گیا' کے عنوان سے مہم شروع کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم دنیا کو یہ بتانے چلے ہیں کہ اعلان بالفور نے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی پر کس طرح کے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اعلان بالفور ہی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت 70 لاکھ فلسطینی پڑوسی ملکوں میں بے یارو مدد گار زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔