.

ایران نے یورینیم افزودگی کی مقدار میں 20 فی صد کمی کر دی

عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں کامیابی اور پابندی خاتمے کے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے عالمی اقتصادی پابندیوں کے منفی اثرات کے نتیجے میں یورینیم افزودگی کی مقدار میں بیس فی صد کمی کر دی ہے۔ تہران نے یہ اقدام سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور ایک غیر مستقل رکن ملک کے ساتھ جوہری پروگرام بارے مذاکرات کو موثر بنانے اور اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔



یم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' کی رپورٹ کے مطابق یورینیم افزودگی میں کمی کا انکشاف پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی برائے سیاسی و خارجہ امور کے رکن محمد حسن اصفری نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔

مسٹر اصفری نے تسلیم کیا کہ جوہری پروگرام کے تسلسل کے باعث تہران پر عائد عالمی پابندیوں کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے یورینیم افزودگی کا عمل کم کرتے ہوئے عالمی طاقتوں سے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورینیم افزودگی میں کمی کا مقصد ایران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کو اٹھانے کی راہ ہموار کرنا اور گروپ چھ کے ساتھ امن بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔



حسن اصفری نے کہا کہ'ہمیں ایسے دکھائی دیتا ہے کہ گروپ چھ کے ساتھ تہران کی بات چیت کی حکمت عملی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی ہے کیونکہ ان مذاکرات کے مستقبل قریب میں مثبت اثرات ظاہر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ چنانچہ ان مذاکرات کو موثر بنانے کے لیے ایران نے جذبہ خیر سگالی کے تحت یورینیم کی افزودگی کی مقدارمیں کمی کی ہے تاکہ مذاکرات نہ صرف جاری رہیں بلکہ ایران پر عائد مالیاتی پابندیاں بھی کم کی جا سکیں'۔



ایرانی عہدیدار نے عالمی طاقتوں سے جوہری تنازع کی بات چیت میں ناکامی پر امریکا اور اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے مذاکرات کے سابقہ ادوار میں کچھ تجاویز پیش کی تھیں، جنہیں امریکا اور اسرائیل کے دباؤ

پر مسترد کیا گیا۔

پاسداران انقلاب کی تردید

درایں اثناء ایران کی طاقتور مسلح افواج پاسداران انقلاب کے ذرائع نے یورینیم افزودگی کی مقدار میں کمی کے اعلان کی تردید کی ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے پاسداران انقلاب کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران اب بھی یورینیم افزودگی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اخباری ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب یورینیم افزودگی میں کمی کے اعلان کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہے۔

ادھر ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان مہمان پرست نے ہفتے کے روز 'فارس' نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی سے مذاکرات کے دوران جوہری بحران کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز دی ہیں۔ تاہم انہوں نے جوہری توانائی کے حصول سے دستبرداری کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو براہ راست نشر کریں تاکہ ایران کے بارے میں عالمی سطح پر پائے جانے والے پروپیگنڈے کا ازالہ کیا جا سکے۔