.

شمالی جزیرہ سیناء کے پولیس چیف برطرف، وزیر دفاع کی قبائلی عمائدین سے ملاقات

فوج نے العریش روڈ کھول دی، جیلوں کی سیکیورٹی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے جزیرہ نُما سیناء میں گذشتہ روز دہشت گردی کی ایک کارروائی میں ملٹری پولیس کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد وزیر داخلہ نے شمالی سیناء کے پولیس چیف کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ نئے چیف کی تقرری تک ان کے نائب ذمہ داریاں سنھبالیں گے۔ دوسری جانب جزیرے میں تازہ کشیدگی کے بعد وزیر داخلہ جنرل عبدالفتاح سیسی نے اتوار کو متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی۔



العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ احمد جمال الدین نے اتوار کے روز شمالی سیناء میں پولیس کے اپنے ساتھیوں کے قتل کے خلاف لگائے گئے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ انہوں نے پولیس کے جوانوں پر دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی اور سیکیورٹی حکام کو شدت پسندوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی۔



درایں اثنا وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے شمالی سیناء کا اچانک دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے بارڈر سیکیورٹی فورسز کے افسروں، جوانوں اور مقامی قبائلی رہ نماؤں سے بھی ملاقات کی۔ وزیر دفاع نے کچھ دیر شمالی سیناء میں قیام کیا۔ اس موقع پر وزیر دفاع کو تازہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔



اخبار الاھرام کے آن لائن ایڈیشن کے مطابق شمالی سیناء کے سرحدی شہر العریش میں سیکیورٹی فورسز کے علاقائی ہیڈ کواٹرز کے آس پاس مسلح دستے تعینات کیے گئے تھے۔ وزیر دفاع نے وہیں پر قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔



ادھر ہفتے کے روز بارڈر فورسز پر شدت پسندوں کے خونریز حملے کے بعد العریش شہر اور فلسطینی سرحدی علاقے رفح کو بین الاقوامی دنیا سے ملانے والی شاہراہ بند کر دی گئی تھی جسے اتوار کے روز فوج نے دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔ یہ سڑک سیکیورٹی اہلکاروں کے اپنے ساتھیوں کے قتل پراحتجاج کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ فوج نے شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر شمالی سیناء کی تمام جیلوں کی سیکیورٹی بھی مزید سخت کر دی ہے۔

مصری سیکیورٹی فورسز کے ایک سرکردہ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ملٹری پولیس کی مقامی قیادت نے دہشت گردوں کے حملے کے ردعمل میں احتجاجی دھرنا دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو دھرنا ختم کرنے پر قائل کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینیئر سیکیورٹی حکام نے دھرنا دینے والے بارڈر پولیس کے اہلکاروں کو بتایا کہ ان کے احتجاج کے دوران شدت پسندوں کو دوبارہ کسی خونی کارروائی کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم ایک دوسرے ذرائع نے اہلکاروں کے احتجاجی کیمپ کے ختم کیے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ احتجاجی سیکیورٹی اہلکار اب بھی سیناء میں ضلعی پولیس چیف کے دفتر کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔