.

صومالیہ میں نئی حکومت کی تشکیل، خاتون وزیر خارجہ نامزد

خانہ جنگی کا شکار ملک کی تاریخ میں نیا باب رقم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
صومالیہ کے وزیر اعظم عابدی فرح شیردون سعید نے اپنی نئی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے اور اس میں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو وزیر خارجہ نامزد کیا ہے۔

وزیر اعظم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''طویل بحث ومباحثے اور مشاورت کے بعد میں نے دس ارکان پر مشتمل اپنی کابینہ نامزد کر دی ہے اور اس میں صومالیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو وزیر خارجہ بنایا گیا ہے''۔

خود صومالی وزیر اعظم شیردون سعید کو اکتوبر میں اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اب صومالیہ کی غیر منتخب پارلیمان ان کی کابینہ کی منظوری دے گی۔

خانہ جنگی کا شکار ملک کی نئی وزیر خارجہ فوزیہ یوسف حاجی عدن خود اعلان کردہ ریاست صومالی لینڈ سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ ایک طویل عرصے سے برطانیہ میں رہتی چلی آ رہی ہیں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ کے طور پر میری نامزدگی ملک کے لیے تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔اس سے ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب وَا ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں کامیابی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو گی۔

واضح رہے کہ صومالیہ 1991ء میں سابق صدر سید بارے کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری کا شکار چلا آ رہا ہے۔ گذشتہ دو عشروں کے دوران براعظم افریقہ کے اس اہم ملک میں کوئی مضبوط مرکزی حکومت قائم نہیں ہو سکی ہے۔

موغادیشو میں قائم ہونے والی حکومتوں کو مغرب کی حمایت کے علاوہ افریقی یونین کے دستوں کی فوجی امداد بھی حاصل رہی ہے لیکن وہ ملک کو درپیش گوناگوں مسائل سے نجات دلانے میں ناکام رہی ہیں۔

صومالیہ کی سرکاری سکیورٹی فورسز سخت گیر اسلامی جنگجوؤں الشباب سے برسرپیکار ہیں۔اس لڑائی میں افریقی یونین کے دستے بھی صومالی فورسزکے شانہ بشانہ الشباب جنگجوؤں سے لڑ رہے ہیں اور انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران الشباب سے بہت سے علاقوں کا قبضہ واپس لے لیا ہے۔