.

طرابلس میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی

حکومت مسلح ملیشیاؤں پر قابو پانے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک سکیورٹی ادارے کے ہیڈکوارٹرز کی عمارت کے نزدیک دو متحارب ملیشیاؤں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

طرابلس کے جنوبی علاقے سیدی خلیفہ میں مسلح جنگجوؤں کی فائرنگ سے قریب واقع سول اسپتال میں بھی گولیاں جا گری ہیں جس سے وہاں خوف وہراس پھیل گیا اور ڈاکٹر اور نرسیں بھاگ کھڑے ہوئے۔ایک ڈاکٹر نے پانچ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

علاقے کے مکینوں نے بتایا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دوملیشیا یونٹوں کے درمیان ان میں سے ایک کے رکن کی گرفتاری کے معاملے پر پہلے توتکار شروع ہوئی تھی اور پھر انھوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کردی۔

خالد محمد نامی ایک مکین نے بتایا کہ ہم نے اتوار کی صبح پولیس کو لڑائی بند کرانے کے لیے بلایا تھا لیکن کوئی بھی نہیں آیا۔لڑائی کے دوران ایک مسلح گروپ کی جانب سے فائر کیا گیا راکٹ گرینیڈ سکیورٹی سروسز کی عمارت پرلگا ہے اور اس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ایک ڈاک خانے کی عمارت میں تعینات ملیشیا کے جنگجوؤں نے بھی جوابی راکٹ گرینیڈ فائر کیا ہے۔

متحارب مسلح جنگجوؤں کے درمیان بعد میں لڑائی سیدی خلیفہ کے تمام علاقے تک پھیل گئی اور شہریوں نے شاہراہ الزاویہ کوبند کردیا اور انھوں نے اس طرف آنے والی کاروں کو بھی روکنا شروع کردیا۔اس کے بعد بعض مقامی شہری بھی اپنے ہتھیار اٹھا لائے تھے۔

لیبیا میں گذشتہ سال مسلح عوامی بغاوت کے نتیجے میں سابق مردآہن معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلح جنگجو گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ان کے درمیان آئے دن خونریز جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔

مختلف قبائلی جنگجو لیڈروں کے زیر اثر مسلح گروہ بعض علاقوں میں سرکاری سکیورٹی فورسز سے بھی زیادہ طاقتور ہیں اور لیبیا کی نئی کمزور حکومت ان پراب تک قابو پانے میں ناکام رہی ہے اور وہ اب اس کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بنتے جار ہے ہیں۔