.

بَرَکۃ کا مطلب رحمت ہے،اوباما کو جیتنا چاہیےحسن ترابی

امریکی صدر مسلمانوں کے بارے میں مشفقانہ رویہ رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوڈان کے بزرگ اسلامی لیڈر حسن الترابی کا کہنا ہے کہ عربی میں برکۃ کا معانی رحمت ہے،اسی لیے امریکی صدر براک اوباما کو صدارتی انتخابات میں دوبارہ جیتنا چاہیے۔

حسن ترابی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ براک اوباما منگل کو دوسری مدت کے لیے امریکا کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ ان کا ترجیحی صدارتی امیدوار کون ہے تو ان کا جواب تھا:''یقیناً براک اوباما''۔انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ براک اوباما مسلمانوں کے بارے میں مشفقانہ رویہ رکھتے ہیں۔ان کا بچپن مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں گزرا تھا اور ان کے کینیائی والد مسلمان تھے۔

انھوں نے کہا کہ''اوباما نے اپنے پیش رو صدر جارج ڈبلیو بش کے مقابلے میں ''دہشت گردی'' کا لفظ کم استعمال کیا ہے اور ان کا نام براک عربی لفظ برکۃ ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے''۔انھوں نے بتایا کہ وہ جیل میں قید کے دوران امریکی صدر کی کتاب کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے والد کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔اس کی تصدیق ان کی قبرپر لگے کتبے سے بھی کی جاسکتی ہے۔اس پر مرحوم کا پورا نام براک حسین اوباما لکھا ہے۔کینیا میں مقیم ان کا دَدھیالی خاندان مسلمان ہے لیکن ان کی والدہ امریکی عیسائی تھیں اور وہ بھی مذہباً عیسائی ہیں۔وہ 2008ء میں منتخب ہونے والے پہلے امریکی افریقی صدر تھے۔اب ان کا ری پبلکن امیدوار میٹ رومنی سے کانٹے کا مقابلہ ہے اور دونوں میں سے کسی کو بھی واضح برتری حاصل نہیں ہے۔

شیخ حسن ترابی کا سوڈان کی سیاست میں گذشتہ چھے عشروں سے اہم کردار رہا ہے۔انھوں نے 1989ء کی فوجی بغاوت میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔تب سوڈان کے موجودہ صدر عمر حسن البشیر حکومت کا تخت الٹ کر برسراقتدار آئے تھے۔ اس بغاوت کے ایک عشرے کے بعد سوڈانی صدر اور حسن ترابی کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اورانھوں نے صدر بشیر کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔اب وہ حزب اختلاف کی جماعت پاپولر کانگریس پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔

انھیں 1990ء کے عشرے میں القاعدہ کے مقتول لیڈر اسامہ بن لادن سے بھی نتھی کیا جاتا رہا تھا۔اسامہ سوڈان میں 1991ءسے 1996ءتک مقیم رہے تھے اور اس دوران امریکا نے سوڈان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اب حسن ترابی کا کہنا ہے کہ جس اسامہ بن لادن کو میں جانتا ہوں ،ان کی شخصیت وہ نہیں تھی جس کا امیج میڈیا پیش کرتا رہا ہے۔