.

امریکا صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ، اوباما اور رومنی میں کانٹے کا رَن

موجودہ امریکی صدر کو اپنے حریف امیدوار پر معمولی برتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ موجودہ صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ان کے حریف ری پبلکن امیدوار کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

امریکا میں کرائے گئے رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق صدر براک اوباما اور ان کے حریف میٹ رومنی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ البتہ صدر اوباما کو بعض ریاستوں میں معمولی برتری حاصل ہے۔خاص طور پر ریاست اوہائیو اور دوسری تین ریاستون کے دو سو ستر الیکٹورل ووٹ ان کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

براک اوباما اگر جیت جاتے ہیں تو وہ 1996ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بل کلنٹن کی دوبارہ کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے منصب صدارت پر فائز ہونے والے دوسرے امیدوار ہوں گے۔ وہ پہلے افریقی نژاد امریکی صدر بھی ہیں۔ اگر ان کے مدمقابل ری پبلکن امیدوار میٹ رومنی جیت جاتے ہیں تو وہ امریکا کے پہلے مورمن صدر ہوں گے اور وائٹ ہاؤس میں جلوہ افروز ہونے والے امیر ترین سیاست دان ہوں گے۔

دونوں صدارتی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ملکی معیشت کی بحالی اور بے روزگاری کی بلند شرح کو مرکزی موضوع بنایا تھا اور وہ صدارتی مباحثوں کے دوران ایک دوسرے کی داخلی وخارجی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے پییش نظر سال 2000ء کے صدارتی انتخابات جیسا نتیجہ بھی برآمد ہو سکتا ہے۔ تب امریکی سپریم کورٹ نے صدر کا فیصلہ کیا تھا۔ اوباما کی مقبولیت میں امریکا میں گذشتہ ماہ کے اختتام پر آنے والے سینڈی طوفان کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بروقت امدادی کارروائیوں کے بعد اضافہ ہوا ہے اور ان کی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی نے یہ امیدیں باندھنا شروع کر دی ہیں کہ ان کے امیدوار جیت جائیں گے۔

براک اوباما نے انتخابی مہم کے آخری لمحات میں ریاست وسکونسن، اوہائیو، آئیوا اور تین وسطی مغربی ریاستوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور ان کے طوفانی دورے کیے ہیں۔ان ریاستوں کے دو سو ستر الیکٹورل ووٹ ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان کے حریف رومنی نے فلوریڈا، ورجینیا، اوہائیو اور ہمپشائر کے دورے کیے تھے۔

انتخابی مہم کے دوران میٹ رومنی نے امریکی ووٹروں سے سہانے اور بہتر کل کے وعدے کیے ہیں جبکہ براک اوباما نے ان کے تبدیلی کے دعوے دار ہونے کا مضحکہ اڑایا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ریاست میساچیوسٹس کے سابق گورنر قدامت پرست ٹی پارٹی کے ایجنڈے کے سامنے ربر اسٹمپ ثابت ہوں گے۔

دوسری جانب میٹ رومنی کا کہنا تھا کہ براک اوباما کو مزید چار سال کے لیے امریکا کی صدارت دینے کا مطلب ایک اور معاشی بحران ہو گا۔ انھوں نے گذشتہ چار سال والے ہی اپنے نعرے اور انقلابی الفاظ ہی دُہرائے ہیں اور ان کے پاس امریکا کو درپیش داخلی وخارجی مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی نئی حکمت عملی نہیں ہے۔