.

بشار الاسد کی محفوظ رخصتی کا بندوبست کیا جا سکتا ہے ڈیوڈ کیمرون

تشدد جاری رہا تو خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شام میں جاری خونریزی اگر ختم ہو جائے تو صدر بشار الاسد کو محفوظ راستہ اور ملک میں قانونی استثنیٰ دیا جاسکتا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے یہ بات ابوظہبی میں العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ ان سے جب بشار الاسد کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ''اس شخص کو ملک سے نکال باہر کرنے اور شام میں محفوظ انتقال اقتدارکے لیے آپ کچھ بھی کر گزریں''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں، بشار الاسد کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کی پوری قوت کے سامنے لانے کی حمایت کروں گا۔ میں انھیں برطانیہ میں پناہ دینے یا وہاں آنے کا منصوبہ پیش نہیں کر رہا ہوں لیکن اگر وہ شام سے نکلنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں اور اس کا انتظام کیا جا سکتا ہے''۔

ڈیوڈ کیمرون نے واضح کیا کہ برطانیہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے شامی حزب اختلاف کو اسلحہ اور ہتھیار مہیا نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم بین الاقوامی قانون کے تحت ایک حکومت ہیں اور ہم قانون کی پاسداری کریں گے لیکن ہم نے حزب اختلاف کی غیر مہلک ہتھیاروں سے مدد کی ہے''۔

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شام میں جاری تشدد طول پکڑ سکتا ہے اور اس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم بشار الاسد کے بغیر مستقبل کے حامی ہیں۔ ایک ایسا مستقبل، جس میں عیسائیوں سمیت اقلیتوں کا احترام کیا جائے اور شام اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے تو ہم یہی کچھ چاہتے ہیں لیکن اگر موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو اس کے بہت ہی خطرناک مضمرات ہوں گے''۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ''ان کا ملک اپنے حصے کا کام کر چکا ہے۔ہم نے سرحدوں پرشامی مہاجرین کی مدد کر کے اپنے حصے کا کردار ادا کردیا ہے۔ہم نے شامی حزب اختلاف کی امداد کی ہے۔ اقوام متحدہ میں شام کے خلاف سخت قرار دادیں پیش کیں لیکن سلامتی کونسل میں بعض مستقل رکن ممالک روس اور چین وغیرہ نے ہمیں اپنے ارادوں کے مطابق آگے نہیں بڑھنے دیا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''برطانیہ نے لیبیا کی مدد کی تھی لیکن اس کا تیل سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر شامی حزب اختلاف بہت پیچیدہ ہے اور وہ عرب لیڈروں سے شام میں انتقال اقتدار سے متعلق تبادلہ خیال کر رہے ہیں''۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ ڈیوڈ کیمرون نے شامی صدر بشار الاسد کی رخصتی اور ان کے کسی تیسرے ملک میں جانے کے حوالے سے سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے گفتگو کی ہے یا نہیں۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ شامی صدر کو کون سا ملک قبول کرنے کو تیار ہوا ہے؟

ڈیوڈ کیمرون کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بشار الاسد کو قانونی استثنیٰ دینے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ شام میں خونریزی رکنی چاہیے۔ اس ترجمان نے کہا کہ ''ہم واضح طور پر یہ چاہتے ہیں کہ بشار الاسد نے جو کچھ کیا ہے،اس پر انھیں انصاف کا سامنا کرنا چاہیے لیکن ہماری ترجیح یہ ہے کہ ملک میں جاری تشدد کا خاتمہ ہو اور انتقال اقتدار کا عمل شروع ہو''۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ شام میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں ملوث سرکاری اہلکاروں اور باغی جنگجوؤں کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔